مرید عباس کو کیسے قتل کیا گیا؟ ملزم عاطف کے بڑے سرمایہ کار کون؟ تفصیلات آگئیں

مرید عباس کو کیسے قتل کیا گیا؟ ملزم عاطف کے بڑے سرمایہ کار کون؟ تفصیلات آگئیں


کراچی(24نیوز) مرید عباس کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ عاطف زمان نے واقعہ سے چند دن قبل مرید سمیت دیگر شراکت داروں کو دھمکیاں دینا شروع کی تھیں, دوسری جانب تفتیشی حکام نے ملزم کے ہاس سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والوں کی فہرست مرتب کرلی .

مرید عباس سمیت دیگر دو افراد کے قتل میں تفتیشی حکام نے مقتول خضر کے منیجر سمیت چار افراد کے بیانات قلمبند کرلئے . مقتول مرید کی اہلیہ اور سسر کے بیانات سمیت مقتول خضر کے بھائی کا بھی قلمبند کرلیا گیا . مقتول خضر کے بھائی الیاس کا کہنا ہے کہ خضر اور میں عاطف سے ملنے منیجر امتیاز کے ہمراہ گئے تھے. عاطف نے خضر کو گاڑی کے پاس بلایا خضر کے قریب پہنچتے ہی عاطف نے گاڑی میں بیٹھے ہی فائرنگ کردی۔ فائرنگ ہوئی تو بھائی الیاس اور امتیاز حواس باختہ ہوگئے، مرید عباس کی اہلیہ کے بیان کے مطابق مرید عباس کو خدشہ تھا۔ واقعے سے کچھ روز قبل بھی عاطف نے دھمکیاں دی تھیں. مرید خود بھی ڈرا ہوا تھا، احتیاط کرنے کا بولتا تھا۔ مرید کہتا تھا کہ دروازہ لاک رکھا کرو، فائرنگ کے واقعے کی عمر کی بیوی نے اطلاع دی ۔

ملزم عاطف کی اسپتال میں گرفتاری ڈال دی گئی تاہم اعلی حکام کے حکم کے بعد ملزم کو تھانے منتقل نہ کیا جاسکا , ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کو دو روز بعد اسپتال سے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب عاطف زمان کے دس بڑے سرمایہ کار کون تھے، تفتیش کاروں نے فہرست بنالی .ذرائع کے مطابق 10 بڑے سرمایہ کاروں کے مبینہ طور پر 118 کروڑ روپے انویسٹ تھے، بڑے سرمایہ کاروں میں یاسر، صدف ایاز، مرید عباس ، عمر حیات، مرید عباس کے سسر عظیم خان اور سیف نامی شہری بھی شامل تھے۔

 مقتول مرید عباس کے 11 کروڑ 72 لاکھ 50 ہزار انویسٹ تھے۔ مقتول مرید عباس کے سسر عظیم خان کے مبینہ طور 4 کروڑ سے زائد کی رقم انویسٹ تھی۔ یاسر نامی تاجر کے مبینہ طور پر 54 کروڑ انویسٹ تھے۔  قتل کے عینی شاہد عمر ریحان کے 8 کروڑ 56 لاکھ انیوسٹ تھے۔ مبینہ بینکر صدف ایاز کی 17 کروڑ 2 لاکھ کی سرمایہ کاری تھی۔ نجی چینل کے دو اینکر پرسن کی تقریبا 11 کروڑ کی سرمایہ کاری تھی۔ 

 ذرائع کے مطابق کسی بھی سرمایہ کار کی انویسٹ رقم مکمل طور پر اپنی نہ تھی، انویسٹرز نے دوستوں رشتہ داروں اور دیگر کے پیسے بھی لگا رکھے تھے، عاطف کی جانب سے منافع ملنے پر سرمایہ کار اپنا پرسنٹیج کاٹ کر دیگر شراکت داروں کو دیتا تھا۔ 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔