بھارت اپنے ہی منہ میاں مٹھو بن گیا

بھارت اپنے ہی منہ میاں مٹھو بن گیا


نئی دہلی( 24نیوز )خطے میں سب سے بڑا تنازعہ مسئلہ کشمیر ہے، ڈوگرا راج کے بعد یہاں بھارتی فوج قابض ہوئی، کچھ علاقہ تو پاکستانی فوج اور مجاہدین نے 1948 میں آزاد کروالیا مگر اب بھی ایک بڑا حصہ آزاد نہیں کروایا جاسکا، بھارت نے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے یہاں کے باسیوں کو آزادی دینے کی حامی تو بھری لیکن آج تک ان کو آزادی نہیں دی اور نہ ہی یہاں رائے شماری کرائی ہے بلکہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک زور و شور سے جاری ہے، کئی جہادی تنظمیں جو کشمیری نوجوانوں پر ہی مشتمل ہیں برسرِ پیکار ہیں،حریت کانفرنس کے نام سے یہاں کی سیاسی جماعتیں پرامن جدوجہد بھی کررہی ہیں،یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو نیچا دکھانے کیلئے کوششیں کی ہیں، جہاں بھی اس کا بس چلا اس نے پاک سرزمین کیخلاف زہر افشانی کی ہے، پاکستان اور چین کے مابین جب سے معاشی اور اسٹریٹجک قربتیں بڑھی ہیں، بھارتی حکومت کے پالیسی میکرز کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی، بلکہ یہ کہیں کہ بدہضمی ہوگئی ہے۔

بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقہ کو اپنا حصہ ظاہر کرکے منصوبے کو شروع ہونے سے پہلے ہی رکوا دیا جائے، بھارت چور مچائے شور والی پالیسی پرعمل پیرا ہے کہ اتنا شور مچایا جائے کہ بھارت کے زیر قبضہ علاقوں اور وہاں جاری آزادی کی تحریکوں کی طرف دنیا کا دھیان ہی نہ جانے پائے،بھارتی حکومت نے پاکستان اور چین کے مابین عدم اعتماد کی فضاء قائم کرنے کیلئے اپنی خفیہ ایجنسی را کو ہدف دے بھی دیا ہے جس کے اثرات پاکستان میں محسوس بھی کیے جا رہے ہیں۔

پڑھنا نا بھولیں: ٹرمپ نے چین کے ساتھ پھر تجارتی جنگ چھیڑ دی

اب عید سے قبل بھارت نے خود سے مقبوضہ کشمیر میں جنگ بندی کا اعلان کیا اور اب اس نام نہاد جنگ بندی کو ختم بھی کردیا گیا ،بھارتی حکومت نے رمضان المبارک اور عید کے موقع پر مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مقبوضہ وادی میں رمضان المبارک میں نام نہاد جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا۔

راج ناتھ سنگھ نے مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوجیوں کو کارروائیوں کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ جنگ بندی میں کوئی توسیع نہیں کی جائے گی۔