مشتاق چینی نے شریف فیملی کا پنڈورا باکس کھول دیا

مشتاق چینی نے شریف فیملی کا پنڈورا باکس کھول دیا


لاہور(24نیوز) مشتاق چینی نے بیان قلمبند کر ادیا۔ شریف فیملی سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات کردیئے۔ 

حمزہ شہباز کا مبینہ فرنٹ مین مشتاق چینی وعدہ معاف گواہ بن گیا، نیب لاہورنے مشتاق چینی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا. مشتاق چینی اور اس کے بیٹے یاسر مشتاق نے شوگر ملز کیس میں بطور وعدہ معاف گواہ بیان قلم بند کرا دیئے. ملزموں نے بیان بند کمرے میں قلمبند کرائے،  جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا بیٹو نے مشتاق چینی اور ان کے بیٹے کے بیان ریکارڈ کئے۔

مشتاق چینی نے بیان میں کہا کہ 2014 میں محمد عثمان جو شریف فیملی کی کمپنیز کے چیف فنانشل آفیسر ہیں ان سے ملاقات ہوئی۔عثمان نے کہا کہ سلمان شہباز کے 69 کروڑ وائٹ کرنے ہیں۔میں نے انکار کیا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ عثمان نے کہا کہ ہم صرف آپ کے اکاونٹ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔۔میں نے پرانے تعلقات اور پیسہ وائٹ ہونے کی لالچ سے اجازت دے دی۔چیف منسڑکا بیٹا اور وزیراعظم کا بھتیجا ہونے کے باعث میں انکار نہیں کر سکا۔

  مشتاق چینی نے بتایا کہ 2014 میں میرے اکاؤنٹ سے 21 کروڑ 40 لاکھ کی ٹی ٹی لگوائیں، جیسے رقم میرے اکاؤنٹ میں آتی میں سلمان شہباز کے نام سے چیک کاٹ دیتا تھا، سلمان شہباز کے نام سے چیک کاٹ کر محمد عثمان کو دیتا تھا۔ 2014 میں پھر 29 کرور 30 لاکھ کی رقم پر ٹی ٹی لگوائی گئی،  جن لوگون کے ناموں سے ٹی ٹی لگوائی گئی میں انکو نہیں جانتا، محمد عثمان نے رقم کے برابر چیکس مجھے کاٹ کر دے دئیے، میں نے متعلقہ کاغذات اور دستاویزات پر اپنے دستخط کیے،  50 کروڑ سے  زائد کی رقم جعلی اور فرضی اکاونٹس سے میرے اکاونٹ میں منتقل کی گئی۔

  مشتاق چینی نے مزید بتایا کہ سلمان شہباز کی وقار ٹریڈنگ کمپنی جو کہ طاہر نقوی کے نام سے بنائی گئی تھی، اس کمپنی سے میرے اکاونٹ میں 10 کروڑ کی رقم بذریعہ چیک میرے اکاونٹ میں آئی، سلمان شہباز نے ان ساری ٹرانزیکشن کو قانونی ثابت کرنے کے لیے 2 مفروضی معاہدے تحریر کیے گیے، ایک معائدے میں میرانام اور دوسرے میں میرے بیٹے یاسر مشتاق کا نام لکھا گیا۔ معاہدے میں یہ رقم بطور قرض ظاہر کی گئی، مفروضی قرضوں کو حقیقی رنگ دینے کےلیے سلمان شہباز نے اپنی جعلی کمپنی سے رقم میرے اکاونٹ میں بھی منتقل کروائی۔ 

مشتاق چینی نے کہا کہ میں کاروبار اور، پیسہ وائٹ ہونے کے لالچ میں یہ کام کرتا رہا،مجھے اپنے گناہ کا احساس ہے،مجھے معافی دی جائے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔