چیف جسٹس آف پاکستان نے سندھ حکومت کو ایک ہفتہ کا الٹی میٹم دے دیا

چیف جسٹس آف پاکستان نے سندھ حکومت کو ایک ہفتہ کا الٹی میٹم دے دیا


کراچی(24نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے  ایک ہفتہ میں کراچی کو صاف کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں واٹر کمیشن کی عبوری رپورٹ کی سماعت ہوئی۔  دوران سماعت چیف جسٹس اور چیف سیکرٹری میں مکالمہ ہوا۔ چیف جسٹس نے چیف سیکرٹری سندھ سے کہا کہ واٹر کمیشن کی رپورٹ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، سندھ میں کیا ہورہا ہے، ہمارے سامنے بڑی بھیانک تصویر آرہی ہے، مجھے ایک ہفتے میں کراچی صاف چاہیے۔

اہم خبر: پاکستان کا بھارت کو انکار، دنیا میں مودی کا ”منہ کالا“ہوجائے گا

چیف سیکریٹری سندھ نےجواب دیا کہ یہ کام اور ذمہ داریاں وسیم اختر کی ہیں لیکن ہم کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے میئر کراچی وسیم اختر سےاستفسار کیا کہ گندگی ہٹانا اور صفائی کس کا کام ہے۔ وسیم اختر نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سارے اختیارات سندھ حکومت کے پاس ہیں، شہر کا برا حال ہے، نالے بند ہیں، کچرے کے ڈھیر لگے ہیں، کتوں کی بھرمار ہے، جب کہ بلدیہ عظمی کو اختیارات اور فنڈز دونوں مہیا نہیں کیے جارہے۔ وسیم اختر نے کہا کہ یہاں سیاست سے بالاتر ہوکر بات کر رہا ہوں، کراچی شہر تباہ ہوچکا ہے، اسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں ادویات تک میسر نہیں۔

 یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل فائنل کے پاسز کسی کو بھی نہیں ملیں گے، وزیر اعلیٰ سندھ کا دوٹوک اعلان

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کام ڈی ایم سیز کا ہے اور ڈی ایم سیز سندھ حکومت کے ماتحت ہیں، اس کا مطلب ہے وسیم اختر ٹھیک کہہ رہے ہیں، لوگوں میں شعور بھی پیدا کریں کہ کچرا کہاں پھینکنا ہے۔ چیف سیکرٹری نے اعتراف کیا کہ شہر میں روزانہ 5 ہزار ٹن کچرا نہیں اٹھایا جارہا اور ایسی سڑکیں بھی ہیں جن پر 6 ماہ سے جھاڑو تک نہیں لگی۔

ضرور پڑھیں: گوادر کول پاور پراجیکٹ کھٹائی میں پڑ گیا 

 شہری نے عدالت میں کراچی کے علاقہ باتھ آئی لینڈ کی تصاویر پیش کیں جن میں کچرا ہی کچرا نظر آرہا ہے۔ ڈاکٹر نواز علی ملاں نے کہا کہ کراچی میں ایک لاکھ سے زائد لوگ چکن گونیا میں مبتلا ہو رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا جب بھی  کراچی آتا ہوں تو باتھ آئی لینڈ میں ہی رہتا ہوں، کل ساری رات میں مچھر مارتا رہا، جس مچھر کو مارتا اس میں خون بھرا ہوتا تھا، مچھر امیر غریب نہیں دیکھتا، مچھر تو کسی کو بھی متاثر کرے گا، ہم تنازع میں نہیں پڑیں گے، سیاست سے بالا ہو کر سب سوچیں، جس کی جو ذمہ داری ہے اسے ادا کرنا ہوگی، مشترکہ کاوشوں سے کراچی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

عدالت میں موجود خاتون شہری نے عدالت میں جسٹس ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوءے کہا کہ آبادی بھی کنٹرول ہونی چاہیے۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں پہلے ہی اس معاملہ پرنوٹس لےچکا ہوں، رپورٹ طلب کرلی ہے۔

 چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کراچی کے شہریوں سے گزارش ہے کہ میری تعریفی تشہیری مہم بند کریں، میں اپنی تعریفی مہم نہیں چاہتا، میں صرف اپنا فرض ادا کررہا ہوں۔