نثار، شہباز ہم آواز، مائنس نواز کا نکتہ آغاز


24 نیوز: کیا ن لیگ کے اندر بھی مائنس نواز فارمولہ پرعمل شروع ہو گیا؟ یہ سوال ان دنوں بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

ادھر پارٹی کا سربراہ بنتے ہی شہبازشریف نے دھیرے دھیرے اپنا بیانیہ آگے بڑھانا شروع کر دیا۔ جب کہ دوسری جانب جماعت کے اندر نوازشریف کے ناقد چودھری نثار بھی نئے پارٹی صدر کے ہمنوا بن گئے ہیں۔

نوازشریف نے آئینی اورسلامتی کے اداروں کے خلاف محاذآرائی شروع کی تو دوسروں کے ساتھ جماعت کے اندر بھی اس کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں۔ شہباز شریف پارٹی کے سربراہ بنے تو بڑے بھائی کی لائن پر چلنے کے بجائے وہ اداروں کو مل بیٹھنے کے واسطے دینے لگے۔

یہ بھی پڑھئے: ن لیگ اور نواز شریف کی بھلائی کس چیز میں ہے، چودھری نثار نے بتادیا 

چودھری نثار بھی اسی مؤقف کے حامی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے برملا کہہ دیا کہ نوازشریف کی بھلائی بھی اسی میں ہے۔ یہی نہیں جب چودھری نثارسے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی انتخابی مہم میں نوازشریف کی تصویر لگائیں گے تو وہ جواب گول کر گئے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ن لیگ کے نئے صدر شہباز شریف اداروں کے ساتھ کسی محاذ آرائی کے موڈ میں نہیں۔ انہیں چودھری نثار جیسے توانا رہنماؤں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس لیے آنے والوں دنوں میں ن لیگ کے اندر نواز کا نہیں شہباز کا سکہ ہی چلتا دکھائی دے رہا ہے۔ شاید مائنس نواز ہے۔

اور تو اور میاں شہباز شریف کے جلسہ میں ترانہ بھی نیا چلا دیا گیا۔

یہ بھی دیکھیں: