سی ویو پرجانے والےشہریوں کیلئے ڈاکٹروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

سی ویو پرجانے والےشہریوں کیلئے ڈاکٹروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی


 کراچی(24نیوز) پی سی آر ڈبلیو آر  کی رپورٹ میں ڈی ایچ اے کی جانب سے سمندر میں سیوریج کا پانی چھوڑنے کا انکشاف۔

تفصیلات کے مطابق شہریوں کے جلدی امراض میں مبتلہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب واٹر کمیشن نے تحریری حکم نامے میں معاملے پر وضاحت کے لئے سیکرٹری دفاع کو طلب کرلیا ہے۔واٹر کمیشن کے روبرو پی سی آر ڈبلیو آر کی جانب سے جمع کرائی جانےوالی رپورٹ میں ڈی ایچ اے کی جانب سے سمندر میں سیوریج کا پانی چھوڑے جانے کا انکشاف کیا گیا، اور بتایا گیا کہ شہری مختلف جلدی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نارووال:ڈسٹرکٹ ہسپتال کے لیبر روم سے بچہ اغوا
 
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ سیوریج کے گندے پانی کی وجہ سے انسانی زندگیوں کے ساتھ ساتھ آبی حیات بھی متاثر ہورہی ہے ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سیوریج کا پانی ساحل پر 4 مختلف مقامات کے زریعے سمندر میں شامل کیا جارہا ہے۔واٹر کمیشن نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا اور ڈی ایچ اے انتظامیہ کو جواب دینے سے قاصر قرار دیا۔

پڑھنا نہ بھولیں:رمضان المبارک کی سحری کھجلا اور پھینی کے بغیر ادھوری
 
کمیشن نے معاملے پر وضاحت کے لئے سیکرٹری دفاع کو پیر کے روز زاتی حیثیت سے پیش طلب کرلیا۔ تحریری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈی ایچ کا کوئی ماسٹر پلان نہیں،،دو دریا اور سی ویو پر قائم زیر زمین عمارتوں کا بھی کوئی میکنزم نہیں ہے۔ کمیشن نے پی سی آر کے تحقیقی افسر ڈاکٹر مرتضی کو سمندر میں چھوڑے جانے والے پانی کا جائزہ لینے کا بھی حکم دیا ہے۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito