زینب کاسفاک قاتل عمران علی اپنے انجام کو پہنچ گیا


لاہور(24نیوز) قصورکی ننھی زینب اور کئی معصوم بچیوں کاقاتل اپنے انجام کو پہنچ گیا، مجرم عمران کو کوٹ لکھپت جیل میں علی الصبح پھانسی دی گئی، مجرم نے زینب کے علاوہ8بچیوں کوزیادتی کےبعدقتل کیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سفاک مجرم عمران علی کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے ڈیتھ سیل میں رکھا گیا تھا،قصور کی ننھی زینب سمیت دیگر بچیوں  کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والا سفاک مجرم عمران علی اپنے انجام کو پہنچ گیا، ننھی کلیوں کی زندگیوں سے کھیلنے والےمجرم کو کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دیدی گئی۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل، مجسٹریٹ، ایگزیکٹوسٹاف، میڈیکل افسران، ننھی زینب کے والد محمد امین، 2 چچا اور ایک ماموں بھی موجود تھے۔ سفاک قاتل کی لاش آدھا گھنٹہ تختہ دار پر جھولتی رہی, ڈاکٹرز کی جانب سے موت کی تصدیق کیے جانے کے بعد سفاک قاتل کی نعش ورثا کے حوالے کردی گئی،پھانسی کے بعد مقتولہ زینب کے والد امین انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجرم عمران کو پھانسی معمولی سزا ہے، ہمیں انصاف مل گیا، اگر سرعام پھانسی دی جاتی تو مجرم عبرت کا نشان بن جاتا۔

اہلخانہ سے ملاقات: 

پھانسی سے پہلےسنگین جرم کے مرتکب شخص سے اس کےا ہلخانہ کی ملاقات کرائی گئی۔ خاندان کے28 افراد نے سخت سیکیورٹی میں آخری ملاقات کی، مجرم عمران علی سے اہلخانہ کی آخری ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہی، مجرم عمران علی بند کمرے میں موجود رہا اور اہلخانہ کو باہرکھڑکی سے صرف ہاتھ ملانے کی اجازت دی گئی تھی۔ ملاقات کا وقت 45 منٹ متعین تھا لیکن اہلخانہ کی درخواست پر 15 منٹ مزید دے دئیے گئے۔

واضح رہے کہ5 جنوری کو زینب گھر سے اغوا ہوئی، اور اسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا جس کی نعش اعظم روڈ قصور سے کچرے کے ڈھیر میں پڑی ملی تھی۔درندگی کے اس بھیانک واقعے پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا،قصور شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین بھی جاں بحق ہوگئے تھے۔

بعدازاں چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خود نوٹس لیا اور پولیس کو جلد از جلد قاتل کی گرفتاری کا حکم دیا۔23 جنوری کو پولیس نے زینب سمیت قصور کی 8 بچیوں سے زیادتی اور قتل میں ملوث ملزم عمران کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔اگلے ہی ماہ یعنی 17 فروری کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے قصور کی 7 سالہ زینب سے زیادتی و قتل کے مجرم عمران کو 4 بار سزائے موت سنادی تھی، جسے ملکی تاریخ کا تیز ترین ٹرائل قرار دیا گیا تھا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔