فواد چودھری کا اپوزیشن کو منہ توڑجواب


اسلام آباد( 24نیوز ) قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس جاری ہے جس میں گرما گرم بحث ہوئی،اپوزیشن لیڈرشہباز شریف اور سید خورشید شاہ کی تقریر کے بعد وزیر اطلاعات فواد چودھری نے تقریر کی جس میں انہوں نے اپوزیشن کے الزامات کامنہ توڑجواب دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شور شرابا کرنے سے احتساب کا عمل نہیں رکے گا اور احتساب کے عمل سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔وزیراعظم نے کہا تھا کہ 50 لوگ جیل میں ہونے چاہئیں اور یہ شور بھی ان 50 نے ڈالا ہے، موٹو گینگ جتنا مرضی شور مچالیں احتساب کا عمل نہیں رکے گا، حالت یہ کردی ہے کہ کوئی ادارہ ایسا نہیں جو بہتر حالت میں ہو، بجلی کا حال ہے کہ 34 ارب روپے ہر ماہ گردشے قرضے میں جارہا ہے۔

وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ نیب خودمختارادارہ ہے اس میں حکومتی عمل دخل نہیں ہے، اپنے ہی بنائے اداروں کے خلاف ہنگامہ آرائی سے بہتر ہے بات کریں کہ احتساب کیسے مزید شفاف بنانا ہے، اگر کسی کے خلاف ریفرنس چل رہا ہے تو گرفتار کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے سے وزیراعظم کا تعلق نہیں اور جنہوں نے سیف الرحمان کو چیئرمین لگایا وہ تو ہمیں سیاسی انتقام کی باتیں نہ سنائیں۔

پارلیمنٹ ہاو¿س کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن دھاندلی کمیشن کی طرح ملکی معیشت پر بھی کمیشن بننا چاہیے، گزشتہ دس سال میں جنہوں نے پاکستان کو اس حال تک پہنچایا ان سے نرمی نہیں ہونی چاہیے، احتساب کے عمل میں شفافیت کے لیے تجاویز دیں، پاکستان میں احتساب کے آہنی شکنجے میں کمی نہیں آنی چاہیے، حکومت بہت مضبوط ہے، یہ سازش کرنا تو چاہتے ہیں لیکن ان کو کوئی جگہ نہیں ملے گی،حکومت کے خلاف سازش کرنے کی ان کی اوقات نہیں رہی، پاکستان کے عوام کو جلد بڑی خوشخبری ملنے والی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن میں ایس پی اور ڈی ایس پی کو استعمال کرنے والے یہ باتیں نہ کریں، سرکاری فنڈ کو الیکشن میں استعمال کرنے والے ہمیں باتیں نہ سنائیں، حکومت سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتی، بے گھر لوگوں کے لیے گھر بنانے کا ماضی میں کسی حکومت نے نہیں سوچا، ہماری حکومت نے پاکستان کا سب سے بڑا ہاو¿سنگ پروجیکٹ لانچ کیا، حکومت نے ملک میں ہیلتھ کارڈ جاری کیا، ہم حکومت کا خزانہ بچا رہے ہیں۔

موجودہ نیب میں پی ٹی آئی نے ایک چپڑاسی بھی بھرتی نہیں کیا، چیئرمین نیب کی تقرری خورشید شاہ اور ن لیگ نے کی، سارا تفتیشی سیٹ اپ انہوں نے لگایا، نیب کے موجودہ سیٹ اپ میں نوازشریف اور خورشید شاہ تھے، آج کے چیئرمین نیب پر بڑی تنقید ہوئی لیکن ماضی میں سیف الرحمان کو چیئرمین لگایا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ن لیگ والے جب اختیار میں تھے تو کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا جو ان کے شر سے محفوظ ہو، پچھلے دور میں وزیراعظم عمران خان پر 32 کیس بنے جن میں 8 دہشت گردی کے تھے، ہمارے سیکڑوں کارکن دہشتگردی کے پرچے میں نامزد ہوئے۔ہم ناتجربہ کار ہیں اور یہ تین تین نسلوں سے پاکستان پر حکومت کررہے ہیں۔