سپریم کورٹ نے ن لیگ کے دوسینیٹرز کو نا اہل کردیا



اسلام آباد(24نیوز) سپریم کورٹ نے دہری شہریت کیس میں ن لیگ کے دو سینیٹرز کی کامیابی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کو نااہل قرار دیا ہے. عدالت نے مختصر فیصلے میں کہا کہ ہارون اختر اور سعدیہ عباسی نے جب کاغذات نامزدگی جمع کرائے وہ دہری شہریت کے حامل تھے. عدالت نے سینیٹر نزہت صادق اور چودھری سرور کے دہری شہریت ترک کرنے کے سرٹیفیکیٹس کی 6 ہفتوں میں تصدیق کرانے کا بھی حکم دیا ہے.

چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی بنچ نے ارکان پارلیمنٹ کی دہری شہریت کیس کی سماعت کی ۔ سینیٹر ہارون اختر کے وکیل علی ظفر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہارون اختر پیدائشی پاکستانی شہری ہیں تیس سال پہلے کینیڈا کی شہریت حاصل کی۔ کینڈین شہریت چھوڑنے کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا ہے.

چیف جسٹس نےریمارکس دئیے کہ ہمیں بیان حلفی نہیں شہریت ترک کرنے کاسرٹیفیکٹ دکھائیں۔ وکیل نےکہا کہ سرٹیفیکٹ ابھی نہیں ملا،  چیف جسٹس نے کہا  پھرتوبات واضح ہو گئی۔

ضرور پڑھیں:انکشاف15 جون 2016

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی کے وکیل احمر بلال صوفی نے اپنے دلائل میں کہا کہ ان کی موکلہ دہری شہریت چھوڑ چکی ہیں، سرٹیفکیٹ بھی آ چکا ہے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سعدیہ عباسی نے جس دن کاغذات نامزدگی داخل کئے اس دن وہ امریکی شہریت رکھتی تھیں، شہریت چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد کا ہے،  امیدوار کی اہلیت کے لیے آرٹیکل 62 اور 63 کو ملا کر پڑھا جاتا ہے ۔

سپریم کورٹ نےہارون اختر اور سعدیہ عباسی کی سینیٹ الیکشن میں کامیابی کو کالعدم قرار دےدیا اور الیکشن کمیشن کو حکم دیا نہ انہیں ڈی نوٹیفائی کرے۔ جبکہ گورنر پنجاب چودھری سرور اور سینٹر نزہت صادق کی شہریت ترک کرنے کے سرٹیفیکیٹس کی 6 ہفتوں میں تصدیق کرانے کی ہدایت کی ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔