وزیر اعلیٰ ،سابق آئی جی پنجاب نے معافی مانگ لی


اسلام آباد( 24نیوزڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سابق آئی جی پنجاب کلیم امام اور دیگر نے سپریم کورٹ میں پیش ہوتے ہوئے غیرمشروط معافی مانگ لی۔

چیف جسٹس آئی جی پر برس پڑے،وزیر اعلیٰ طلب

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے اقتدار کو کئی دن گذر گئے لیکن مشکلات کم نہ ہوئیں،سپریم کورٹ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس میں طلب کر لیا۔

سپریم کورٹ میں ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کی انکوائری رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دے دیا۔ چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی کو بچانے کیلئے آپ نے اپنے دونوں افسروں کو جھوٹا ثابت کر دیا، آپ کو اپنی پولیس اتھارٹی کی کوئی پرواہ نہیں، کتنی اہم انکوائری آپ کے سپرد کی تھی۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کلیم امام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا میں نے آپ پر اعتماد کیا کہ درست انکوائری کر کے لائیں گے، احسن گجر کی جراءت کیسے ہوئی کہ آئی جی سے تبادلے کا کہتا ؟۔

ضلع پاکپتن کے ڈی پی او کو ہٹانے کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ میں انکوائری آفیسر آئی جی پو لیس پنجاب کلیم امام نے معاملے کے تمام کرداروں کو کلین چٹ دیتے ہوئے کسی پر بھی ذمہ داری عائد نہیں کی،رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ نے پولیس افسروں کو ایک بڑے کے طور پر طلب کیا تا کہ قبائلی روایت کے تحت معاملہ حل ہو، اس دوران پولیس افسر ہراساں نہیں ہوئے اور نہ ہی کسی دباﺅ کا احساس ہوا۔

انکوائری رپورٹ میں تمام حالات و واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ، 24 اگست کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے متعلقہ پولیس افسروں کو آئی جی پنجاب کے علم میں لائے بغیر رات 10 بجے طلب کیا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ آئندہ وزیراعلیٰ کسی بھی پولیس افسر کو براہ راست دفترنہ بلائیں اور آئی جی کی ہدایت کے بغیر افسر کو وزیراعلیٰ، وزرا، دیگر سرکاری دفاتر میں جانیکی اجازت نہ ہو۔

یادر ہے وزیر اعلیٰ پنجاب پر وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابقہ شوہر خاور مانیکا کے کہنے پر ڈی پی او ڈاکٹر رضوان گوندل کے تبادلے کا الزام ہے۔