خورشید شاہ نے صدارتی نظام کیلئے نیا مشورہ دے دیا

خورشید شاہ نے صدارتی نظام کیلئے نیا مشورہ دے دیا


سکھر(24نیوز) پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ صدارتی نظام کیسے آسکتا ہے،کون لاسکتا ہے،ہاں آئین کو ختم کرکے لایا جاسکتا ہے،تجربے کرنے کی گنجائش نہیں،صدارتی نظام کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ سندھ میں ترقیاتی کام بند ہوگئے،اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی کی بات ہوئی،2010 سے 2018 تک تمام صوبے خوش تھے.  این ایف سی میں اب کیا ہوگیا کہ آپ خوش نہیں، ایف بی آر کے ٹارگٹ پورے نہیں ہورہے. ہمیں ایک ہزار بلین کا ٹارگٹ ملا تھا ہم نے ٹارگٹ سے بڑھ کر 1945 بلیں ٹیکس وصول کیا.

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر کے بعد جو ہمیں ملک ملا تب کتنا قرضہ تھا؟، پرویز مشرف کا کوئی آڈٹ کرنے کو تیار نہ تھا.صدارتی نظام لانا ہے تو آئین ختم کریں. ہم نے حکومت کو بارہا مل بیٹھ کر بات کرنے کی دعوت دی. وزیر اعظم کی آج بھی یہی سوچ ہے کہ پارلیمنٹ میں کوئی بھی شخص شریف نہیں. 

وزیر اعظم آج بھی کنٹنیر پر چڑھے ہوئے ہیں.  پنجاب میں تین آئی جیز کی تبدیلی گڈ گورننس کی نشانی ہے.چیف سلیکٹر سے سلیکشن میں غلطی ہوگئی ہے.  چیف سلیکٹر اب اپنی سلیکشن پر سوچ رہے ہوں گے. 

اظہر تھراج

Senior Content Writer