کلبھوشن یادیو کیس،بھارت کی مشکلات بڑھنے لگیں

کلبھوشن یادیو کیس،بھارت کی مشکلات بڑھنے لگیں


لندن(24نیوز) بھارتی جاسوکلبھوشن یادیوجو کہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس آفسر ہیں،جس کو سنہ 2016 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، کلبھوشن کی شناخت کے معاملہ پربرطانوی تحقیقاتی ادارے نےبھارت کی شاطرانہ چال کو ناکام بنادیا۔

برطانوی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کلبھوشن کی جعلی شناخت کے بھارت نے اصل پاسپورٹ جاری کیا،حسین مبارک پٹیل کے نام سےپاسپورٹ بھارتی حکومت کا جاری کردہ ہے، کلبھوشن  یادیونے جعلی شناخت اپنا کرحسین مبارک کے نام سے سفر کیا، حسین مبارک پٹیل کا پاسپورٹ اصلی جبکہ شناخت جعلی ہے، سفارتی ذرائع کاکہناتھاکہ پاکستان نے برطانوی ادارے کی رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کر دی ہے، ہالینڈ کے شہر ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں بھارتی دہشتگرد کمانڈر کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت آج ہوگی۔

پاکستانی ٹیم اٹارنی جنرل کی سربراہی میں دی ہیگ میں موجود پاکستان کی جانب سے کیس کیلئے بھر پور تیاری کی ہے، پاکستان سب سے پہلے عالمی عدالت انصاف کا دائرہ سماعت پر دلائل دے گا،پاکستان ویانا کنونشن کے تحت سفارتی رسائی کی بھارتی درخواست کو بھی کاؤنٹر کرے گا،پاکستان بھارت سےحسین مبارک پٹیل کی تفصیلات بھی مانگے گا،حسین مبارک پٹیل کے پاسپورٹ پر کلبھوشن نے 17 مرتبہ سفر کیا، کلبھوشن کی ریٹائرمنٹ کی دستاویزات، پنشن بک اور پنشن ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی مانگےگا۔

 بھارت نےابھی تک  ایسا کوئی ثبوت عالمی عدالت انصاف میں جمع نہیں کرایا، مگر بھارت کلبھوشن کی بریت رہائی اور واپسی کا مطالبہ کر رہاہے،بھارتی جاسوس کلبھوشن پر ابھی صرف ایک کیس چلا ہےجبکہ دو مقدمات کا ٹرائل ہونا ابھی باقی ہے،آج بھارت اپنے دلائل دے گااور 19 فروری کو پاکستان کے وکیل خاور قریشی دلائل دیں گے،20 کو بھارت جبکہ 21 پاکستان جواب الجواب دے گا۔

واضح رہے کہ کیس میں دستاویزی ثبوت جمع کرانے کا وقت گزر چکا ہے،اب صرف زبانی دلائل ہونگے،سماعت ختم ہونے کے بعد کیس مکمل طور پر بند ہو جائے گا،جس کے بعد کیس کا فیصلہ تین سے چار ماہ میں آ سکتا ہے، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کیخلاف اپیل نہیں کی جا سکتی، عدالت کے فیصلے کو تسلیم اور اس پر عملدرآمد کرنے کے دونوں ممالک پابند ہیں۔

 پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے 10 اپریل سنہ 2017 میں انھیں جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی۔

M.SAJID KHAN

CONTENT WRITER