بھورے ریچھوں کا مسکن،دیو سائی نیشنل پارک

بھورے ریچھوں کا مسکن،دیو سائی نیشنل پارک


گلگت( 24نیوز ) دیوسائی نیشنل پارک سطح سمندر سے 13،500 فٹ اونچائی پر واقع ہے، پارک 3000 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، نومبر سے مئی تک پارک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔
دیوسائی نایاب بھورے ریچھوں کا مسکن اور اپنی خوبصور تی اور رعنائی میں لاثانی ہیں، یہاں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور وسیع ترین گلیشئیر کے علاوہ دنیا کا بلند ترین اور وسیع ترین سطح مرتفع دیوسائی بھی موجود ہے، بلتستان میں بولی جانے والی شینا زبان میں دیوسائی کا مطلب دیو کی سرزمین ہے ، کیوں کہ ایک روایت کے مطابق دیوسایہ نامی ایک دیو کا یہ مسکن ہے اسی نسبت سے اسے دیوسائی کہتے ہیں ۔

دیوسائی سطح سمندر سے اوسطاً 13500َفٹ بلند ہے اس بلند ترین چوٹی شتونگ ہے جو 16000فٹ بلند ہے۔ دیوسائی کا کل رقبہ 3000 مربع کلو میٹر ہے۔ سال کے آٹھ تا نو مہینے دیوسائی مکمل طور پر برف میں ڈھکا رہتا ہے،،، یہاں تیس فٹ تک برف پڑتی ہے جب پگھلتی ہے توتو دریائے سندھ کے کل پانی کا 5فی صد حصہ ہوتی ہے۔ ان پانیوں کو محفوظ کرنے کے لئے صد پارہ جھیل پر ایک بند زیر تعمیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں لال حویلی کی داستاں
دیوسائی پہنچنے کے دو راستے ہیں ایک راستہ اسکردو سے ہے اور دوسرا استور سے۔ اسکردو سے دیوسائی 35 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور جیپ کے ذریعے دو گھنٹے میں صد پارہ جھیل اور صد پارہ گاو¿ں کے راستے دیوسائی پہنچا جا سکتا ہے،،،، ریچھ کے علاوہ یہاں مارموٹ نسل کا خرگوش تبتی بھیڑیا ،لال لومڑی، ہمالین آئی بیکس، اڑیال اور برفانی چیتے کے علاوہ ہجرتی پرندے جن میں گولڈن ایگل، داڑھی والا عقاب اور فیلکن قابل ذکر ہیں پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ یہاں تقریباً 150 اقسام کے قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیاں بھی پائی جاتی ہیں، جن میں سے محض 10تا15 مقامی لوگ مختلف بیماریوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اسکردو کے باسی چھٹی والے دن بڑی تعداد میں یہاں پکنک منانے آتے ہیں۔ جھیل کا پانی یخ بستہ اور اس قدرشفاف ہے کہ اس کے نیچے موجود رنگ برنگے پتھر اور ٹراوٹ صاف نظر آتے ہیں اورخوبصورت منظر پیش کرتے ہیں،برجی لا کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں سے قراقرم سلسلے کی چھ چوٹیاں K-2 ، براڈ پیک، گشیبرم 1 ، گشیبرم 2، گشیبرم4 اور مشہ برم نظر آتی ہیں۔ ایک مقام پر اتنی بلندچوٹیاں دنیا میں اور کہیں نہیں پائے جاتیں یہ اعزاز صرف پاکستان کو حاصل ہے۔