جمہوریت کی آستین میں چھپے سب سانپ آہستہ آہستہ باہر آگئے: مریم نواز


سانگلہ ہل(24نیوز) جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ  یہاں پر عوام کی توہین کا نوٹس نہیں ہوتا شخصیات کی توہین کا نوٹس ہوتا ہے، چیئرمین سینٹ الیکشن میں جوتماشا لگا ،کیا آپ نے دیکھا نہیں؟ نواز شریف کی ہار نہیں ہوئی، شازشی مہروں نے عوام کا فیصلہ آسان بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سازشیوں کے چہرے سے نقاب اتر گئے ہیں اور جمہوریت کی آستین میں چھپے سانپ باہر آرہے ہیں۔

مریم نواز نے سانگلہ ہل میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی ہار نہیں جیت ہوئی ہے، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا،عمران اور زرداری اندر سے ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں، فیصلے کی گھڑی آنے میں چند ہفتے رہ گئے ہیں، ایسے میں کٹھ پتلیوں اور سازشیوں کے چہرے سے نقاب اتر گئے ہیں اور جمہوریت کی آستین میں چھپے سانپ باہر آرہے ہیں، یہ لوگ الیکشن میں کیا منہ لے کر جائیں گے، لاڈلا کہے گا ووٹوں کا سودا کر آئے، چہیتا کہے گا ووٹوں کو نوٹوں سے خرید لیا، سینیٹ الیکشن میں منڈیاں لگیں اور ممبرز کو توڑا گیا، لیکن اصولی طور پر نوازشریف کی ہار نہیں بلکہ جیت ہوئی ہے، یہاں پر عوام کی توہین کا نوٹس نہیں ہوتا۔ مریم نواز نے کہا کہ جب یہ لوگ ووٹ مانگنے آئیں تو نعرہ لگانا زرداری عمران بھائی بھائی، عمران کو دیا گیا ووٹ زرداری کو اور زرداری کو دیا گیا ووٹ عمران کو جائے گا، یہ اندر سے ایک ہی ہیں اور ملے ہوئے ہیں،  شیر کے خوف سے ایک دوسرے کو بیماری کہنے والوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملالیے ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خوف کی وجہ سے ایک دوسرے کو چور کہنے والوں کو ہاتھ ملانے پڑ گئے۔ یہ نواز شریف کے نظریے کی جیت ہے۔ جمہوریت کی آستین میں جتنے سانپ چھپے تھے سب آہستہ آہستہ باہر آگئے اور سازشی چہروں سامنے آگئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نہیں دنیا کی عدالتی تاریخ کا پہلا مقدمہ ہے، نواز شریف کو سزا پہلے مقدمہ بعد میں چلا رہے ہیں۔ درخواست گزار نے کھربوں کی کرپشن کا الزام لگایا تھا لیکن نواز شریف کیخلاف دس روپے کی کرپشن بھی ثابت نہیں کر پائے۔

انہوں نے کہاکہ زرداری اور عمران بھائی بھائی ہیں، ایک دوسرے کو چور اور بیماری کہنے والوں نے نواز شریف کے خوف سے ہاتھ ملا لئے، جمہوریت کی آستین میں چھپے سانپ باہر آگئے، عوام کی توہین کا کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن جو تماشا لگا وہ  سب نے دیکھا، سینیٹ الیکشن میں منڈیاں لگیں، ممبرز کو توڑا گیا۔ ممبرز کو توڑنا 22 کروڑ عوام کے ووٹ کی توہین ہے، لیکن یہاں عوام کی توہین کا نہیں شخصیات کا نوٹس ہوتا ہے۔