انصاف تول کرہی ملے گا, تنہا نظام درست نہیں کر سکتا:چیف جسٹس


پشاور( 24نیوز ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب،سندھ اور بلوچستان کے بعد خیبر پی کے کا رخ کرلیا ،پشاور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے دھواں دھار دورے بھی کررہے ہیں ۔
چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کو ادھورا چھوڑ کر الرازی ہسپتال پہنچ گئے جہاں انہوں نے ہسپتال،کالج میں انتظامات کا جائزہ لیا اور ساتھ مریضوں سے حال احوال بھی دریافت کرتے رہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے صاف پانی کی فراہمی سمیت مختلف کیسز کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کو طلب کرلیا،سماعت کے دوران جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی گڈگورنس کا بہت سنا ہے، اس لیے آج یہاں آئے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پشاور رجسٹری میں صاف پانی کی فراہمی، اسپتالوں اور اسکولوں کی حالت زار اور نجی میڈیکل کالجز سمیت مختلف کیسوں کی سماعت کی،سماعت کے دوران چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا، سیکرٹری صحت اور دیگر حکام عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب نے بلوچستان کا رخ کرلیا،بڑے بڑوں کی جانچ پڑتال شروع
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو پینےکا پانی کہاں سے مل رہا ہے؟ کیا عوام کو آلودہ پینے کا پانی دیا جاتا رہا؟ساتھ ہی چیف جسٹس نے پینے کے صاف پانی کے ٹیسٹ کرنے کا بھی حکم دے دیا۔
چیف جسٹس نے ہسپتالوں میں فضلہ جلانے سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ اسپتالوں میں کتنا فضلہ بنتا ہے؟ کتناضائع کیا جاتا ہے اور کتنا عملہ کام کر رہا ہے؟
جسٹس ثاقب نثار نے خیبرپختونخوا کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات پر رپورٹ بھی فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ صوبے میں کتنے اسکولز ہیں اور کیا ان میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ہو رہی ہے؟


چیف جسٹس نے صوبے میں کام کرنے والے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں فیسوں کی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی،علاوہ ازیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے چیف سیکریٹری سے صوبے میں لوڈشیڈنگ اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے رپورٹ بھی طلب کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: رشتہ سے انکار، 3 طالبات پر تیزاب پھینک دیاگیا
چیف جسٹس نے کیس کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو بلالیں، بے شک رات ڈیڑھ بجے بھی بلالیں، ہم ادھر ہی ہیں'۔

چیف جسٹس نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا بھی دورہ کیا ،اس موقع پر چیف جسٹس نے شہریوں کی شکایات بھی سنیں اور محکمہ صحت کے حکام کو ان شکایات کو حل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔ مریضوں اور ڈاکٹروں نے شکایات کے انبار لگادیے۔ شہریوں نے شہر میں علاج معالجے کی مناسب سہولیات نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے کہ کوئی تبدیلی نہیں آئی، ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ کرتے، چیف جسٹس صاحب ہمیں آپ سے توقعات ہیں۔ ڈاکٹر بھی پھٹ پڑے اور بولے کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں جب کہ کام زیادہ لیا جارہا ہے۔

ویڈیو دیکھیں:


اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی خیبر پختونخوا سے مکالمے کے دوران کہا کہ ہم نے آپ کی بہت تعریف سنی ہے، دہشتگردی میں آپ کا بہت ذاتی نقصان ہوا ہے۔ غیر متعلقہ لوگوں کے پاس سیکیورٹی کے نام پر کتنی پولیس فورس ہے؟
آئی جی خیبر پختونخوا نے بتایا کہ 3 ہزار کے قریب اہلکار غیر متعلقہ افراد کی سیکیورٹی پر تعینات ہیں، 900 اہلکاروں کو واپس بلالیا گیا ہے جب کہ دیگر کو مرحلہ وار واپس بلارہے ہیں، اس میں ایک ہفتہ لگے گا۔ چیف جسٹس نے آئی جی خیبرپختونخوا کو غیر متعلقہ افرادکی سیکیورٹی اج رات تک واپس لینے کا حکم دیا۔ جس پر صلاح الدین خان نے حکم پر فوری عمل کی یقین دہانی کرادی۔


پشاور ہائیکورٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے انصاف تول کردیا جاتا ہے،تول کرہی ملے گا،علم نہیں کہ جسٹس کھوسہ ریفرنس کیوں نہیں قبول کیا گیا ہے،جسٹس دوست محمدکھوسہ سے کبھی تقریر کے بارے میں نہیں پوچھا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ریاست کی سب سے کم ترجیح عدلیہ ہے اور میں تنہا اس نظام کو درست نہیں کر سکتا۔ضلعی بار کے صدور سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ لوگ تنقید کرتے ہیں ہم فیصلہ جلد اور قانون کے مطابق نہیں کررہے، میں قانون بنانے والا نہیں اسے نافذ کرنے والا ہوں۔ ریاست کی سب سے کم ترجیح عدلیہ ہے تو ذمے دار میں نہیں، 1861 کا قانون تبدیل نہ ہونے کی ذمے دار سپریم کورٹ نہیں، ہمیں اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے لیکن میں تنہا اس نظام کو درست نہیں کر سکتا، انصاف تول کر دیا جانا چاہیے، کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، ہم نے مداخلت شروع کر دی ہے، اب ہم بھی ریاست میں آتے ہیں، ججز کی ذمہ داری انصاف کی فراہمی ہے، سچ جھوٹ کا فیصلہ کرنا ججز کا کام نہیں۔

 

19 مارچ کو ریٹائر ہونے والے  سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد خان کی جانب سے فل کورٹ ریفرنس قبول نہ کرنے سے متعلق قیاس آرائیوں کے بارے میں چیف جسٹس نے بتایا کہ دوست محمد خان کی ریٹائرمنٹ سے پہلے پوچھا کس دن ریفرنس لینا پسند کریں گے، انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ والے دن لوں گا، لیکن پھر انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر ریفرنس لینے سے انکار کردیا، میں نے انہیں فون کیا لیکن انہوں نے فون کا جواب بھی نہ دیا، اگلے روز جسٹس دوست محمد خان ہم سے ملنے آگئے، ہم نے ریفرنس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ذاتی مصروفیات ہیں جس کی وجہ سے تقریر تیار نہیں کرسکا، میں نے انہیں تقریر لکھنے کر دینے کی پیش کش کی، لیکن انہوں نے انکار کردیا، انہیں ڈنر اور لنچ کی پیش کش کی لیکن انہوں نے اس سے بھی انکار کردیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے میں مجھ پر الزامات لگائے گئے، بار نے مجھے اتنا گھٹیا، نیچ اور کم ظرف سمجھ لیا کہ اپنے جانے والے دوست اس طرح رخصت کروں گا کہ ساری زندگی اس پر ندامت ہوتی رہے، میں ان سے کبھی تقریر دکھانے کا نہیں کہا۔ جسٹس دوست محمد کل آجائیں انہیں فل کورٹ ریفرنس دینے کے لیے تیار ہوں۔

ویڈیو دیکھیں:

واضح رہے کہ برطانوی نشریاتی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ جسٹس دوست محمد خان کو کہا گیا تھا کہ ریفرنس میں دی جانے والی تقریر کے مسودے کو وہ پہلے دکھا دیں لیکن اس درخواست کو انھوں نے رد کر دیا تھا، جبکہ کچھ ایسے اندورنی معاملات تھے جن کی بنا پر انھوں نے فل کورٹ ریفرنس نہ لینے فیصلہ لیا۔ جسٹس دوست محمد نے ریٹائرمنٹ سے کچھ روز قبل ایک تقریر میں کہا تھا کہ سیاسی معاملات کو عدالت میں لانے سے آمریت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

ویڈیو دیکھیں:

علاوہ ازیں نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کو آوٹ سورس کرنے کے معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو تمام تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ نوٹس یونین آف سول ایوی ایشن ایمپلائز کی درخواست پر لیا گیا۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں