دنیا بھر میں رواں سال 65 صحافیوں کو قتل کیا گیا

دنیا بھر میں رواں سال 65 صحافیوں کو قتل کیا گیا


اسلام آباد (24 نیوز) دنیا بھر میں رواں سال 65 صحافیوں اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کیا گیا۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال قتل کیے گئے صحافیوں میں سے 50پیشہ ور رپورٹر تھے۔

رپورٹ کے مطابق گذشتہ 14 سالوں کے مقابلے میں صحافیوں کی ہلاکتوں کی یہ بہت کم تعدادہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمی کا رجحان اس لیے بھی ہے کہ صحافیوں کی اکثریت نے اب دنیا کی خطرناک ترین جگہوں پر رپورٹنگ کرنا چھوڑ دی ہے۔ اس رپورٹ میں شام کو صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے جہاں 12 رپورٹرزکو قتل کیا گیا اور دوسرے نمبر پر میکسیکو میں 11 صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

ان قتل کیے گئے صحافیوں میں ایک نام جاویئر والدیز کا بھی تھا جن کے قتل نے میکسکو میں طوفان برپا کردیا تھا۔ 50 سالہ رکن کو میکسیکو کے شمال مغربی صوبہ سنالوا میں دن دیہاڑے قتل کیا گیا تھا۔ ان کی آخری کتاب ’’نارکو جرنلزم ‘‘ میں ان میکسیکن رپورٹرز کے متعلق بتایا گیا ہے جو میکسکو میں منشیات کی اسمگلنگ اور جرائم کی روک تھام کی کوریج کی کوشش کرتے ہیں۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق 65 میں سے 39 صحافیوں کو قتل کیا گیا جبکہ باقی بم دھماکوں اور فضائی حملوں میں مارے گئے۔ شام، یمن، عراق اور لییا جیسے ممالک میں صحافیوں کو زیادہ تر قتل کیا جاتا ہے۔ جبکہ ترکی میں زیادہ ترصحافیوں کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چین، ایران، شام اور ویتنام میں بھی صحافیوں کی اکثریت کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔