اداروں کے ٹکراؤ سے بہتر ہے ججوں کے رویے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے: شاہد خاقان عباسی


اسلام آباد (24 نیوز) وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں منتخب نمائندوں کو چور اور ڈاکو کہا گیا۔ اداروں کے ٹکراؤ سے بہتر ہے ججوں کے رویے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔

قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح کیا کہ اداروں کے ٹکراؤ سے بہتر ہے کہ ججوں کے رویے پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔ عدالتوں میں حکومتی نمائندوں کو بے عزت کیا جاتا ہے۔ منتخب ارکان پارلیمنٹ کو چور ڈاکو اور گاڈ فادر کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کرکٹر ، ہر چیز کا ’ری پلے‘ کرتے ہیں،طلال چودھری
انھوں نے مزید کہا کہ یہ ن لیگ کا نہیں پورے ایوان کا مسئلہ ہے۔ اپوزیشن ساتھ دے۔ ہم نے آئین پر چلنا ہے۔

مزید پڑھیں: توہین عدالت کیس، سپریم کورٹ نے دانیال عزیز کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

اپنے خطاب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہم نے حلف لیتے ہوئے آئین کا دفاع کرنے کا عہد کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس ایوان میں بیٹھے لوگ20 کروڑ لوگوں کے منتخب نمائندے ہیں، لیکن آج عدالتوں میں منتخب نمائندوں کو کبھی چور، ڈاکو اور مافیا کہا جاتا ہے، عدالتوں میں دھمکی دی جاتی ہے کہ جو قانون آپ نے پاس کیا ہے اسےختم کردیں گے۔

وزیراعظم نے ایوان میں موجود ارکان سے استفسار کیا کہ کہا اس ایوان کو قانون سازی کا حق حاصل نہیں، کیا ہمیں پہلے قانون سازی کرنے سے قبل منظوری لینی ہوگی؟

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئین میں تمام اداروں کی حدود کا تعین موجود ہے، اداروں کو اپنی حدود میں رہنا ہوگا ورنہ ملک کا نقصان ہوگا، جب بھی اداروں میں کشمکش ہوتی ہے ملک کا نقصان ہوتا ہے، اس کیفیت سے بچنے کے لیے ایوان میں بحث ہونی چاہیے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ یہ کسی جماعت کا معاملہ نہیں اس پر ایوان میں بحث ہونی چاہیے، حکومتی نمائندوں کوعدالتوں میں بےعزت کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عدالتوں میں حکومتی پالیسیوں کی نفی کی جاتی ہے، لوگوں کو نکالا جاتا ہے، یہ باتیں کب تک چلیں گی، اس میں ملک کا نقصان ہوگا، آج حکومتی عہدیدار کے لیے سب سے آسان راستہ ہے کہ کوئی فیصلہ اور کام نہ کرے، حکومتی عہدیدار کام نہیں کرے گا تو کوئی نہیں پوچھے گا، کام کرے گا توبےعزتی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آج ہماری حکومت ہے کل کسی اورکی ہوگی، پوچھ گچھ ہونی چاہیے، قانون موجود ہے، ان چیزوں پر ایوان میں بات ہونی چاہیے، ان چیزوں کا تعین کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نے استفسار کیا کہ کیا حکومت کو تقرریوں اور فیصلے کرنے کا حق ہے؟ اگر کوئی غلط فیصلہ ہوا اور اس کے منفی اثرات ہوئے تو کیا وہ ذاتی ذمہ داری ہوجاتی ہے؟ اگر ایوان ان معاملات پربات نہیں کرے گا تو یہ کیسے حل ہوں گے؟

وزیراعظم نے کہا کہ میں کسی ادارے یا عدلیہ پرتنقید نہیں کررہا صرف حقائق بتارہا ہوں، اپوزیشن لیڈرسے گذارش ہے کہ اس کو پارٹی کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔

خیال رہے کہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں آنے سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی کی تھی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ججز کے طرز عمل کو پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر زیر بحث لایا جائے۔