دریائے سندھ تباہی کی طرف گامزن،ماہیگیر فاقہ کشی میں مبتلا

دریائے سندھ تباہی کی طرف گامزن،ماہیگیر فاقہ کشی میں مبتلا


کراچی(24نیوز) پاکستان کا سب سے بڑا دریا دریائے سندھ میں پانی نہ ہونے سے ریت اور سمندر کے کھارے اور کڑوے پانی کے باعث افادیت کھو رہا ہے۔پانی کی قلت کے باعث روزگار اور معیشیت تباہی کے دہانے پر، لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور۔

تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ کو پاکستان میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ یہ دریا تبت سے ایک جھیل مانسرور کے قریب سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد دریائے سندھ لداخ اور گلگت بلستان سے گزرتا ہوا صوبہ خیبر پختونخوا میں داخل ہوتا ہے۔ جہاں اسے اباسین یعنی دریاؤں کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔ دریائے سندھ ماضی میں اپنی بے مثال موجوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا لیکن اب یہ خود پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: گلشن اقبال کے علاقہ میں پانی کی فراہمی بند 

 واضح رہے کہ پیاسوں کی پیاس بجھانے والہ دریائے سندھ حکمرانوں کے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث پیاس میں تڑپ رہا  اور سمندر کا کڑوا پانی دریائے سندھ میں داخل ہو گیا جس سے آبی حیات کی نسل کشی اور ماحولیاتی و فضائی آلودگی میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے سندھ کے پانی پر روزگار کرنے والے ماہیگیر پانی نہ ہونے کی وجہ سے فاقہ کشی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ان کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔

دوسری جانب کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں تازہ پانی نہ چھوڑے جانے کی وجہ سے یہ دریا ٹھٹھہ، بدین اور کراچی کی 35 لاکھ ایکڑ زمین سمندر نگل چکا ہے اور مسلسل شہر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تازہ پانی کا رساؤ نہ ہونے سے دریائے سندھ تباہی کی طرف گامزن ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: کچے مکانوں کے باسیوں پر خطرات کے سائے منڈلانے لگے 

 پانی کے ماہرین کے مطابق اگر کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں پانی نہیں چھوڑا گیا تو 2060 تک کراچی، بدین، سجاول اور ٹھٹھہ سمندر برباد ہوجائیں گے۔ اس سے قبل دریائے سندھ میں تازہ پانی چھوڑا جائے تو یہ شہر صفحہ ہستی سے مٹنے سے بچ سکتے ہیں۔