گڈ مارننگ کے مسیجز اور چائے کی پیشکش بھی ہراسمنٹ ہے، کشمالہ

گڈ مارننگ کے مسیجز اور چائے کی پیشکش بھی ہراسمنٹ ہے، کشمالہ


راولپنڈی(24نیوز) کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ خواتین کو  گڈ مارننگ کے مسیجز اور بار بار چائے پر جانے کی پیشکش ہراسمنٹ کے زمرے میں آتی ہے۔

وفاقی محتسب برائے ہراسانی کشمالہ طارق نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے عالمی دن پرساری خواتین اکٹھی ہیں، جتنی خواتین یہاں بیٹھی ہیں سب کے دلوں میں دکھوں کی داستانیں ہیں۔ معاشرے میں برداشت نہیں آئے گی تب تک بہتری نہیں آئے گی۔ لوگ کیا کہیں گے اس سلوگن سے باہر نکلنا ہو گا۔اس وقت بنیادی ضرورت بچیوں کو تعلیم دینا ہے۔

انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عورت کو تبدیل کرنے کیلئے تبدیلی مرد میں چاہیئے۔ ہمارا ادارہ صرف خواتین کیلئے نہیں مردوں کیلئے بھی ہے مگر مردوں کو چاہیے کہ ہمیں اتنا سپیس ضرور دیں کہ مسائل حل ہو سکیں۔انہوں نے خواتین کو بتایا کہ آپ آن لائن شکایات درج کروا سکتی ہیں مگر دو ماہ میں فیصلہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ  گڈ مارننگ میسج خواتین کو بھیجنا بھی ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ میرے پاس ایسی شکایات بھی موجود ہیں جہاں دفاتر نائب قاصد بھی ہراس کر رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہراسمنٹ جنسی ہی نہیں کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے۔  گڈ مارننگ میسج خواتین کو بھیجنا بھی ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔اگر آپ کو کوئی بار بار چائے پر جانے کا بھی کہے وہ بھی ہراسمنٹ میں آتا ہے۔ میرے پاس ایسی شکایات بھی موجود ہیں جہاں دفاتر نائب قاصد بھی ہراس کر رہے ہوتے ہیں۔خواتین کے کام کی ہر جگہ پر سی سی ٹی وی کیمرہ موجود ہونا چاہئے۔  ہر ادارے میں ہراسمنٹ کمیٹی ہونی چاہیے۔ اگر کوئی ہراس کرے اور بار بار کرے تو آپ فاسپا کے پاس شکایت لا سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ  کشمالہ طارق 2002ء سے 2013ء تک خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر رکن قومی اسمبلی رہی ہیں اور انہوں نے 2018 میں خواتین کو ہراساں کرنے کی روک تھام کے لیے وفاقی محتسب کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔