نواز شریف کی درخواست ضمانت سماعت: باہر جانے والے کبھی واپس نہیں آتے، سزا یافتہ کیسے آئے گا؟چیف جسٹس

نواز شریف کی درخواست ضمانت سماعت: باہر جانے والے کبھی واپس نہیں آتے، سزا یافتہ کیسے آئے گا؟چیف جسٹس


اسلام آباد(24نیوز) نوازشریف کوضمانت ملے گی یانہیں۔ سپریم کورٹ فیصلہ 26 مارچ کوکرے گی۔ ملزم کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پرنیب سمیت فریقین کونوٹس جاری کردیئے گئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ باہرجانے والے کبھی واپس نہیں آتے،سزا یافتہ کیسے واپس آئے گا.

 سابق وزیراعظم نوازشریف کو رہائی کا پروانہ جاری ہوگا یا نہیں بڑی عدالت بڑا فیصلہ 26 مارچ کو کرے گی۔ نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی .  خواجہ حارث نے نوازشریف کی 5 میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کیں، دلائل دئیے کہ میرے موکل ہائی بلڈ پریشر، دل، شوگر اورگردوں کے مرض میں مبتلا ہیں انکی دو مرتبہ اوپن ہارٹ سرجری ہوچکی 7 دفعہ اسٹنٹ ڈالا گیا۔ استدعا کی ملزم کو سزا معطل کرکے انہیں مرضی کی جگہ پر علاج کرنے کی اجازت دی جائے. 

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ نواز شریف کی عارضہ قلب، گردے، شوگر اور ہائیپر ٹینشن کی ہسٹری ہے پہلی رپورٹ میں نواز شریف کی عمر 65سال دوسری رپورٹ میں عمر 69 سال لکھ دی گئی.  چند دنوں میں ہی عمر چارسال بڑھا دی گئی. مزید ریمارکس دیئے کہ نوازشریف نے تمام بیماریوں کے ساتھ بڑی مصروف زندگی گزاری. انہوں نے انتخابی مہم چلائی، جلسے اورریلیوں کے ساتھ ٹرائل کا بھی سامنا کیا. دیکھنا ہے مرض پہلے جیسا ہے یا بگڑ گیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ باہر جانے والے کبھی واپس نہیں آتے جن کا ٹرائل ہورہا ہے وہ بھی واپس نہیں آئے. سزا یافتہ کیسے واپس آئے گا،،عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت سے قبل دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کردی. 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔