" ثبوت نہیں ہوتے تو لوگ بیرون ملک کیوں بھاگ جاتے ہیں"



اسلام آباد(24نیوز) چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ جمہوریت اپنے اعمال کی وجہ سے خطرے میں آتی ہے، ہرمنی لانڈر کو انجام تک پہنچانا ہے۔ انہوں نےکہا کہ  نیب کے پاس ثبوت نہ ہوتے تو لوگ ملک سے بھاگ نہ جاتے۔

اسلام آباد میں نیوزکانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال   نے کہا کہ نیب میں زیرتفتیش افراد کوبڑے عہدے نہ دیئے جائیں, یہ مغلیہ دور نہیں کہ دفترمیں بیٹھے رہیں اور کہیں کہ نہیں آسکتے۔ مغلیہ دور اب ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے نیب پہلے انکوائری پھر گرفتاری کرے یہ غلط ہے۔  نیب تاجروں اور ملکی معیشت کو تحفظ دے گا، بزنس کمیونٹی کو کسی قسم کا خوف نہیں ہونا چاہئے۔ آج کے بعد کسی کاروباری شخصیت کو نیب نہیں بلایا جائے گا۔ تاجروں کو نیب میں بلانے کے لئے سوالنامہ دیا جائے گا۔ 

چیئرمین نیب   نے کہا کہ تفتیش کوسبوتاژ کرنے کے لئے اسمبلی اجلاس بلائے گئے۔ جب گرفتاری ہوتی ہے تو اسمبلی اور پی اے سی کا اجلاس بلا لیتے ہیں۔ ہرمنی لانڈر کو انجام تک پہنچانا ہے، جمہوریت اپنے اعمال کی وجہ سے خطرے میں آتی ہے، جمہوریت احتساب کی وجہ سے خطرے میں نہیں آتی۔ میں کسی کا نام نہیں لیتا مگریہ ملک سے بھاگ کیوں جاتے ہیں۔  نیب کے پاس ثبوت نہ ہوتے تو لوگ ملک سے بھاگ نہ جاتے۔ ملکی مفاد کا تحفظ کریں گے چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے پاس وکلا کودینے کے لئے ڈیڑھ دو لاکھ روپے بھی نہیں۔  موجودہ معاشی بحران حکومتی نہیں قومی بحران ہے۔  نیب کی وابستگی ریاست کے ساتھ  ہےحکومت کے ساتھ نہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہایف اے ٹی ایف نے ہمیں گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے ہمیں انتباہ جاری کررکھا ہے۔  نیب ہر وہ قدم اٹھائے گا جو ملکی مفاد میں ہو۔  نیب کوڈکٹیٹ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نیب کو ڈکٹیشن کا سوچنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ 

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔