نوازشریف،مریم ، صفدر اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد جاتی امرا پہنچ گئے


 اسلام آباد(24نیوز)راولپنڈی کے اڈیالہ جیل سے رہائی کےبعد نوازشریف،ان کی بیٹی اورداماد جاتی امرا رائے ونڈ پہنچ گئے۔ نوازشریف اورمریم نواز نے 63 جبکہ کیپٹن صفدر نے69 دن جیل میں گزارے، راولپنڈی اور لاہور میں کارکنوں نےشریف فیملی کا پرتپاک استقبال کیا اور جذباتی نعرے  بھی لگائے۔

نوازشریف اڈیالہ جیل سےرہاہوگئے۔مریم نوازاورکیپٹن صفدر کو بھی سزامعطلی پررہائی نصیب ہوئی۔  شام ساڑھےسات بجےکےقریب اڈیالہ جیل کاگیٹ کھلااورکالی گاڑی میں سوارنوازشریف اپنے بھائی شہبازشریف کے ہمراہ برآمد ہوئے۔ پارٹی قائد کو دیکھ کرکارکنوں کے خون نے جوش مارا اور وہ نعرے لگانے لگے۔
گاڑی کی اگلے نشست پر بیٹھےشہبازشریف بے قابو ہجوم کو راستہ دینےکاکہتےرہے،کارکن گل پاشی کرتے رہے جبکہ رش کی وجہ سےگاڑِیاں انتہائی سست روی کا شکار رہی۔نوازشریف،مریم نوازاور کیپٹن صفدر کو سخت سیکورٹی میں نورخان ائر بیس لے جایا گیا جہاں سے خصوصی طیارے کے ذریعے انہیں لاہور روانہ کیا جائےگا۔
اس سے پہلےعدالتی فیصلہ آنے کے فوری بعد شہبازشریف اڈِیالہ جیل پہنچے تو نوازشریف نے انہیں گلے لگایا ۔شریف برادران کی ملاقات سپریٹنڈنٹ جیل کے کمرے میں ہوئی۔ اس موقع پر سردارمہتاب عباسی، چودھری تنویراورمرتضی جاویدعباسی بھی موجود تھے اس موقع پر مریم اورنگزیب خوشی سے آبدیدہ ہو گئیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا ان کا ضمیر مطمین تھا۔ شہبازشریف نے عدالت کا فیصلہ آنے پر ٹویٹ کیا کہ "ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو امن کا سویرا آکر رہتا ہے، آج ثابت ہو گیا نوازشریف صادق بھی ہیں اور امین بھی ہیں ۔
دورکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانیوالے سابق وزیر اعظم نواز شریف،بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)محمد صفدر کی سزائیں معطل کردی ہیں،عدالت نے اپیلیں منظور کرتے ہوئے تینوں کو پانچ ،پانچ لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

نیب کا فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنیکا فیصلہ
دوسری طرف نیب نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے،قومی احتساب بیورو کی ٹیم کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیں:

یاد رہے نواز شریف،مریم نواز اورکیپٹن(ر)محمد صفدرنے اڈیالہ جیل میں 63دن گزارے ہیں،18سماعتوں کے بعد دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا،بینچ کی سربراہی جسٹس اطہر من اللہ کر رہے تھے۔

لیگی کارکنوں کا جشن: 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر ملک بھر میں ن لیگ کے کارکنوں نے جشن منایا ۔ مٹھائی تقسیم کی اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہے۔ایون فیلڈ ریفرنس کی سزائیں معطل ہونےکے فیصلے پراسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر موجود لیگی کارکنوں میں خوشی کی لہردوڑگئی اورانہوں نےاپنے قائد کے حق میں نعرے لگانا شروع کردیا۔
لاہورمیں متوالوں کی خوشی دیدنی تھی،ن لیگ آفس میں لیگی کارکنوں اور رہنماوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی اورمنہ میٹھا کیا۔فیروزوالہ میں جوشیلے کارکن سڑک پرآ گئے،مٹھائی تقسیم کی اور ڈھول کی تھاپ پربھنگڑے ڈالتے لگے۔
جہلم کےمختلف مقامات پر بھی لیگی کارکنوں کی طرف سےخوشی کا اظہارکیا گیا۔سیالکوٹ میں کارکن خوشی سےنہال ہوگئےاورعدالتی فیصلے کو سراہا۔۔۔۔مری میں متوالے مال روڈ پر امڈ آئےاورلیگی قیادت کے حق میں نعرے لگائے۔
حویلی لکھا میں جوشیلے کارکنوں نےریلی نکالی اور پارٹی قائد کےحق میں نعرے لگائے، چلاس میں بھی لیگی کارکنوں نےعدالتی فیصلے پرجشن منایا ملتان ،قصور، کوئٹہ ، حیدر آباد ،مٹیاری ،عمر کوٹ میں بھی ن لیگ کےسپورٹرزکی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا اور پارٹی قیادت کی سزا معطل ہونے کے فیصلے پرانہوں نےایک دوسرےکو مبارک باد دی اورمٹھائی تقسیم کی۔

ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے اپنے بھائی، بھتیجی کے حق میں فیصلہ آنے پر اپنی والدہ کو فون کرکے مبارکباد دی ،انہوں کہا کہ ماں جی تہاڈے پتر دی سزا معطل ہوگئی اور ساتھ ہی انہوں نے قرآن مجید کی آیت کریمہ ٹوئیٹ کی جس کا مفہوم ہے کہ اور کہہ دو حق آیا اور باطل مٹ گیا۔

یہ نان پی سی او انصاف کی ایک جھلک ہے: احسن اقبال

عدالتی فیصلے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نےکہا کہ نیب کا وہ فیصلہ جو انتقام پر مبنی تھا وہ معطل ہوا ہے، یہ ٹرائل اس لحاظ سے بے حد اہم ہے، اس ٹرائل میں اگر پاکستان میں اندھا شخص تھا اسے بھی نظر آگیا ہے ان مقدمات میں آئین ہے اور نہ قانون، اس میں صرف انتقام اور پری پول دھاندلی تھی جس کا مقصد نواز شریف کو انتخابی میدان سے باہر نکال کر عمران خان کی جعلی کامیابی کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ عدالتی فیصلے پر پاکستان کے عوام اور ملک بھر میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کو مبارکباد دیتا ہوں، آج اللہ تعالیٰ نے (ن) لیگ کے کارکنان کی دعائیں قبول کی ہیں۔یہ نان پی سی او انصاف کی ایک جھلک ہے۔

ویڈیو دیکھیں:

نیب پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث میں گرما گرمی

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت میں آج بھی نیب پراسیکیوٹر اور خواجہ حارث کی گرما گرمی رہی، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایم ایل اے اور جے آئی ٹی کے والیم ایٹ، ایٹ اے اور نائن کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواستیں منظور کر لیں ، خواجہ حارث پیر کو واجد ضیا پر دوبارہ جرح کریں گے۔ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت شروع کی تو نواز شریف سمیت لیگی رہنماوں کی ایک بڑی تعداد کمرہ عدالت میں موجود تھی۔ سماعت کے آغاز میں ہی وکیل صفائی خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر الجھ پڑے ، گرما گرمی اس قدر بڑھی کہ جج نے دونوں کو غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے 10 منٹ دئیے۔


فاضل جج ارشد ملک نے یاد دلایا کہ آج خواجہ حارث نے جرح مکمل کرنی ہیں جس پر خواجہ حارث کا موقف تھا کہ ان کو پورا ایک دن چاہئیے، جج نے میڈیا کا حوالہ دیا تو وکیل صفائی بولے کہ اگر عدالت نے میڈیا سے متاثر ہونا ہے تو پھر ہو گیا کیس,خواجہ حارث نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے کل بھی ہائیکورٹ میں دلائل مکمل نہیں کیے اور آج تک مزید مہلت مانگ لی، انہیں آج پھر ہائیکورٹ جانا ہے اس لیے جرح کے بجائے ایم ایل اے سے متعلق درخواست پر دلائل سن لئے جائیں۔جج نے جرح مکمل کرنے کی ہدایت کی تو نیب پراسیکیوٹرکا کہنا تھا کہ وکیل صفائی ایک ہی گواہ پر تین ماہ سے جرح کر رہے ہیں۔

خواجہ حارث کا موقف تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ نیبپراسیکیوٹر مذاق کر رہے ہیں یا سنجیدہ ہیں، اگر عدالت سمجھتی ہے کہ جرح غیر ضروری ہے تو ان کی زبانی درخواست پر یہ حق ختم کر دے۔سردار مظفر بولے کہ تین ماہ کی جرح کے بعد اب بتا دیں کہ جرح کب ختم کرنی ہے؟ خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وہ نیب پراسیکیوٹر کے روئیے کی وجہ سے اس طرح کے ماحول میں کام نہیں کرسکتے، ان کی طرف سے بے شک آرڈر میں لکھ دیا جائے کہ وکیل صفائی نے کہا ہے کہ وہ ایسے ماحول میں کام نہیں کرسکتے، خواجہ حارث کی اس بات کو نیب کی جانب سے بلک میلنگ قرار دیا گیا۔

وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی توخواجہ حارث کے سوال پرواجد ضیا نے ریکارڈ میں سے ہینڈنگ اوور اور ٹیکنگ اوور کی فہرست نکال کر دکھا دی۔ ان کا کہنا تھا کہ فہرست میں دی گئی تمام دستاویزات 24 جولائی 2017 سے پہلے سپریم کورٹ میں جمع کروا دی گئی تھیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد دستاویزات کی فہرست کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔ سماعت مکمل ہونے پر نواز شریف اڈیالہ جیل واپس روانہ ہوئے اس سے قبل کمرہ عدالت میں لیگی رہنمائوں کی بڑی تعداد نے ان سے ملاقات کی اور بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا۔واضح رہے کہ عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور 3 بجے فیصلہ سنا دیا جائے گا۔