ادارے عمارتوں سے نہیں شخصیات سے بنتے ہیں:چیف جسٹس


پشاور( 24نیوز ) خیبر پختونخواہ حکومت عدالتی احکامات ماننے میں بہت تیز نکلی ، ایک ہزار 769 افراد سے پولیس سیکیورٹی واپس لے لی گئی جس کی رپورٹ آئی جی نے سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔
چیف جسٹس پاکستان نے گزشتہ روز انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا صلاح الدین محسود کو غیر متعلقہ افراد سے سیکیورٹی واپس لینے کا حکم دیا تھا۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پشاور رجسٹری میں سیکیورٹی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس دوران آئی جی خیبرپختونخوا نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔
آئی جی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں ایک ہزار 769 افراد سے پولیس کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے،رپورٹ پر چیف جسٹس نے آئی جی صلاح الدین محسود کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا،آپ کا شکریہ۔چیف جسٹس نےریمارکس دیئے کہ آئی جی خیبرپختونخوا کی کارکردگی سے مطمئن ہوں، اگرعدالت کسی کوسلیوٹ کرسکتی تو میں آئی جی کوسلیوٹ کرتاہوں۔

یہ بھی پڑھیں:انصاف تول کرہی ملے گا, تنہا نظام درست نہیں کر سکتا:چیف جسٹس
دوسری جانب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین محسود نے کہا کہ آدھی رات کوایک ہزار769مختلف افراد سے سیکیورٹی واپس لی، پہلے بھی ہم نے 3 ماہ میں 900 افراد سے سیکیورٹی واپس لی تھی جب کہ دیگر پولیس نفری مناسب وقت میں واپس لینےکی ہدایات ملی ہیں،چیف جسٹس نے سیکیورٹی واپس لینےکے اقدام پرتعریف کی، تعریف اگر صرف میری بھی کی ہے تو پوری پولیس کی ہے۔

اہم خبر: شریف فیملی کےخلاف نیب ریفرنسز کی سماعت آج ہوگی

دوسری جانب چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پشاور رجسٹری میں صحت کی سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کی،سماعت کے دوران چیئرمین ہیلتھ کیئر کمیشن عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 15 ہزار اتائی ڈاکٹر ہیں،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے کتنے اتائیوں کے خلاف کارروائی کی اور کتنے اتائیوں پر پابندی لگائی گئی ہے؟
جسٹس ثاقب نثار نے مزید استفسار کیا کہ وہ اتائی کہاں ہے جو ہسپتال میں کام کرتے ہوئے گرفتار ہوا؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اتائی لوگوں کی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں۔
ساتھ ہی چیف جسٹس نے ہیلتھ کیئر کمیشن کے سربراہ سے استفسار کہ آپ کی اپنی تنخواہ کتنی ہے؟سربراہ ہیلتھ کیئر کمیشن نے بتایا کہ ان کی تنخواہ 5 لاکھ ہے۔
جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ یہ کیسا صوبہ ہے جہاں چیف سیکریٹری 1 لاکھ 80 ہزار اور آپ 5 لاکھ روپے تنخوا لے رہے ہیں، اتائیوں کے خلاف کارروائی کرنا آپ کی ڈیوٹی ہے،اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے ایک ہفتے کے اندر صوبے میں تمام اتائیوں کے کلینکس بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

چیف جسٹس آپ پاکستان جسٹس میا ں ثاقب نثار نے چار سدہ میں جوڈیشل کمپلیکس کا بھی افتتاح بھی کیا انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف فراہم کرنا ہماری نوکری نہیں،ذمہ داری ہے،دیکھنا ہوگا لوگوں کو انصاف کیوں نہیں ملتا ہے،ادارے عمارتوں سے نہیں شخصیات سے بنتے ہیں،عزت اور ذلت دینے والا اللہ ہے۔