پہچان میں مشکل؟ سانحہ ساہیوال کا مقدمہ نامعلوم اہلکاروں کے خلاف درج

پہچان میں مشکل؟ سانحہ ساہیوال کا مقدمہ نامعلوم اہلکاروں کے خلاف درج


لاہور، ساہیوال (24نیوز) ساہیوال واقعہ کا پہلا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج, دوسرا مقدمہ ساہیوال میں سی ٹی ڈی اہلکاروں کیخلاف درج کیاگیا۔

ساہیوال سانحہ کا پہلا مقدمہ سی ٹی ڈی تھا نے میں درج کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ جبار،عبدالرحمان داعش کے کارندے تھے، ایف آئی آر  کے مطابق اطلاعات پر گاڑی کوساہیوال کے قریب روکنے کی کوشش کی گئی ، موٹرسائیکل سوار دہشتگردوں نےسی ٹی ڈی کی گاڑی پرفائرنگ شروع کردی۔سی ٹی ڈی ٹیم نے دہشتگردوں کو قابو کرنےکی کوشش کی۔دہشتگردوں کی اپنی ساتھیوں کی فائرنگ سےکار زد میں آ گئی۔موٹرسائیکل سوار موقع سے فرارہوگئے، سی ٹی ڈی نے چاروں افراد کو فائرنگ سے ہلاک قراردیا۔ واقعہ میں ایک بچہ اوربچی زخمی ہوئے۔ کارسواروں کےسامان سے خودکش جیکٹ،گولیاں برآمد کیں۔  دہشتگردی جباراورعبدالرحمان نے گرفتاری سےبچنےکیلئے فائرنگ کی۔ مقدمہ قتل،دہشتگردی،سنگین دفعات کے تحت درج کیاگیا۔

دوسری ایف آئی آر سی ڈی ٹی اہلکاروں کیخلاف لاہور میں درج کی گئی۔ جاں بحق خلیل کے بھائی جلیل کی مدعیت میں درج کی گئی۔ سی ٹی ڈی کے16نامعلوم اہلکاروں کیخلاف درج کی گئی۔ ایف آئی آر میں اہلکاروں کیخلاف قتل ،دہشتگردی کی دفعات شامل ہیں۔

دوسری جانب خرم نواز گنڈاپور کہتے ہیں کہ ساہیوال واقعہ میں ناموں کے بغیر ایف آئی آر  کا اندراج انصاف کاقتل عام ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔