سانحہ ساہیوال معصوم بچوں پر قیامت ڈھا گیا، دادی بھی چل بسی

سانحہ ساہیوال معصوم بچوں پر قیامت ڈھا گیا، دادی بھی چل بسی


لاہور(24نیوز) ساہیوال میں ہونے والے دردناک واقعہ کے بعد گھر میں موجود بچوں کی دادی بھی ہارٹ اٹیک ہونے سے اس جہان فانی سے رخصت ہوگئیں۔

مشکوک پولیس مقابلے کو 24 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا لیکن اب تک معاملے میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ البتہ جے آئی ٹی ضرور بنا دی گئی جو  3 روز بعد تحقیقات کر کے وزیر اعلیٰ کو رپورٹ کریں گی۔

ترجمان سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ساہیوال ٹول پلازہ کے پاس سی ٹی ڈی نے ایک کار اور موٹرسائیکل کو روکنے کی کوشش کی جس پر کار میں سوار افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ شروع کردی، جوابی فائرنگ کے نتیجے میں 4افراد جاں بحق جبکہ تین فرار ہو گئے، ترجمان سی ٹی ڈی کادعویٰ ہے کہ ایک دہشت گرد کی شناخت ذیشان کے نام سے ہوئی، جو کالعدم تنظیم داعش کا مقامی سرغنہ تھا۔

ضرور پڑھیں:انکشاف15 جون 2016

سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی فیصل آباد میں گزشتہ دنوں کی گئی کارروائی کا تسلسل ہے، فرار دہشت گردوں میں شاہد جبار، عبدالرحمان اور اس کا ایک ساتھی شامل ہے، جائے وقوع سے خودکش جیکٹس، دستی بم اور اسلحہ بھی برآمد ہوا.

جبکہ دوسری جانب ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں مارے جانے والے چارافرادکا معاملہ مشکوک اس وقت ہوا جب  زخمی ہونے والے بچوں اور عینی شاہدین کا بیان سامنے آیا۔ بچوں کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والے ہمارے والدین تھے اور ہم لاہور سے بورے والا شادی کی تقریب میں جا رہے تھے کہ اچانک پیچھے سے آنے والی پولیس کی گاڑی نے فائرنگ کردی، والدین ،بہن اور والدکا دوست جاں بحق ہوئے۔ابونےپولیس والوں کی منتیں کیں، ان سے کہا سب پیسے لےلو، تلاشی لےلو، گولی مت مارولیکن انہوں نےایک نہیں سنی۔11سالہ بچے کی ٹانگ پر جبکہ چھ سال کی بچی کے ہاتھ پرگولی لگی ہے۔

عینی شاہدین کا بھی کہنا ہے کہ گاڑی سےکوئی فائرنہیں ہوا پولیس نے فائرنگ کی، فائرنگ سےپہلےپولیس والوں نےہوٹل والوں کو کہا ملازمین کواندربلالو،مرنے والوں نےکوئی مزاحمت نہیں کی، گاڑی سے کپڑوں کے تین بیگ ملے جوسی ٹی ڈی اپنے ساتھ لے گئی۔

اس دردناک واقعہ نے جہاں بچوں سے ان کے والدین چھین لیا وہیں اس واقعہ کا سن کر بچوں کی دادی بھی ہارٹ اٹیک سے جاں بحق ہوگئیں۔ اب ان اموات کا حساب کون دے گا؟؟؟ یہ ایک بڑا سوال پیدا ہوگیا جو ہر کسی کی زبان پر آگیا ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔