امریکا کی ڈو مور کی رٹ بند نہ ہو سکی


واشنگٹن(24نیوز) افغان جنگ کے حوالے سے سالانہ جائزہ رپورٹ میں امریکا نے پھر سے ڈو مور کا رونا دھونا شروع کر دیا ۔ افغانستان کے لیے امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف وٹیل نے کہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے امریکی عسکری حکمت عملی میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ 

افغان جنگ کے حوالے سے سالانہ جائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے امریکی جنرل جوزف وٹیل کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں پر حملے کرنے والےعسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترکی حکومت نے ناکام فوجی بغاوت کے بعد بڑا قدم اٹھا لیا

امریکی جنرل نے مزید کہا کہ اگرچہ اسلام آباد سے مثبت اشارے موصول ہو رہے ہیں مگرپاکستان کو عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز تر کرتے ہوئےانہیں گرفتار ،  ملک بدر یا فوجی آپریشن کے ذریعے ختم کرنا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی مدد سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر آتا دیکھنا چاہتے ہیں یہ موقع ہے اور پاکستان اس سے فائدہ اٹھائے۔

افغانستان کے لیے امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جوزف وٹیل نے مزید کہا کہ افغانستان کے حوالے سے امریکی عسکری حکمت عملی میں کسی بڑی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس بابت پالیسی کا تجزیہ ضرور کر رہا ہے، تاہم اس کا مطلب نظرثانی نہیں ہے۔ جنرل وٹیل نے مجموعی حکمت عملی کو قابل تشفی قرار دیا ۔ دوسری طرف امریکی حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ افغانستان میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہونے پر امریکی صدر ٹرمپ برہم ہیں۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔