اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید اضافہ کردیا

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں مزید اضافہ کردیا


کراچی (24 نیوز) حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض کی حتمی منظوری سے پہلے ہی تمام شرائط پوری کرنا شروع کر دیں، ڈالر ریکارڈ مہنگا کرنے کے ساتھ شرح سود بھی مزید 150 بیسز پوائنٹ بڑھا دی، اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرح سود 12.25 فیصد کر دی۔ 

آئی ایم ایف سے قرض لینے کا اتنی زیادہ جلدی ہے کہ حکومت نے پرانی مانیٹری پالیسی کی مدت بھی پوری نہیں ہونے دی، اسٹیٹ بینک نے معمول کے شڈول سے دس روز قبل ہی نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود 150 بیسز پوائنٹ بڑھا کر 12.25 فیصد کر دی گئی جو سات سال کی بلند ترین سطح ہے،  نئی شرح کا اطلاق 21 مئی سے ہو گا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم ہونے کے باوجود ابھی معشت کے لیے چیلنج ہے۔ مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ کے درآمدی بل سے کم رہ گئے جبکہ محاصل میں کمی، سود اور امن و امان کی اخراجات میں اضافے کے باعث مالیاتی خسارہ گزشتہ سال سے کافی زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ حکومت نے خسارہ پورا کرنے کے لیے رواں مالی سال اب تک مرکزی بینک سے 48 کھرب روپے قرض لیا جو گزشتہ سال سے 2.4 گنا ہے، کمرشل بینک حکومت کو قرض دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔ 

رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 6.5 سے 7.5 فیصد ہونے کا امکان ہےجبکہ اگلے مالی سال مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ دو ماہ کے دوران روپے کی قدر میں 5.93 فیصد کمی ہوئی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق زری پالیسی کمیٹی کا یہ نقطہ نظر ہے کہ معیشت میں استحکام کے لیے کی مزید اقدامات درکار ہیں اس لیے 21 مئی سے پالیسی ریٹ 150 بیسز پوائنٹ کے اضافے سے 12.25 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں اب تک بنیادی شرح سود میں 475 بیسز پوائنٹ کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔