کراچی : جوائنٹ نرسز ایکشن کمیٹی نے احتجاج کی دھمکی دیدی

کراچی : جوائنٹ نرسز ایکشن کمیٹی نے احتجاج کی دھمکی دیدی


کراچی ( 24 نیوز) جوائنٹ نرسز ایکشن کمیٹی نے مطالبات منظور نہ ہونے پر پیر سے احتجاج کا اعلان کر دیا,نرسز نےمحکمہ صحت سندھ سے مایوس ہو کر وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ دیا۔

تفصیلات کے مطابق جوائنٹ نرسز ایکشن کمیٹی نے قومی ادارہ برائے صحت اطفال میں ہنگامی پریس کانفرنس  کر تے ہوئے پیر سے سندھ بھر میں کام چھوڑ کر ہڑتال کی دھمکی دے دی ، نرسز رہنما افشاں نازلی کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے 10 مطالبات فوری منظورنہ ہوئے تو 22 اکتوبرسے احتجاج کریں گے اور  کراچی پریس کلب کے باہر دھرنا بھی دیا جائے گا .

نرسز  رہنما افشاں نازلی نے اپنے 10 مطالبات پیش کیے، جس کے مطابق  صوبے بھر میں ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس دیا جائے،صوبائی محتسب اعلیٰ کے خصوصی امتحانات لینے کے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے،نرسز طلبا کا وظیفہ 20 ہزار روپے مقرر کیا جائے جیسا کہ پنجاب اور کے پی کے میں ہے،نرسنگ اسکولز کو فی الفور ڈی ڈی او پاور دی جائے،نرسنگ یونیورسٹی بنانے کا اعلان کر کےبجٹ مختص کیا جائے،سندھ بھر میں نرسز کی 14 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں،سندھ سیکریٹریٹ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ میں ایڈیشنل سیکریٹری ٹیکنیکل نرسنگ شعبے سے تعینات کیا جائے،کنٹرولر اور ڈپٹی کنٹرولر کی نشستوں سے متعلق پبلک سروس کمیشن کے اعلان من و عن رکھا جائے، پاکستان نرسنگ کونسل کے الیکشن میں سلیکشن کو فی الفورمنسوخ کیا جائے۔

نرسز  رہنما  کا مزید کہنا تھا کہ متعدد بار اپنی جائز سفارشات حکام بالا کوپیش کیں لیکن محکمہ صحت نے ہر بار پس پشت ڈال دیا،سندھ کے علاوہ دیگرصوبے فلاح و بہبود کے لیے مختلف مراعاتی پیکجز کا اعلان کر رہے ہیں،سندھ میں اس شعبے میں ترقی نا ہونے کے برابر ہے، اکثر نرسز 16 گریڈ میں بھرتی ہو کر اسی میں ریٹائر ہو جاتے ہیں، 2017 کے احتجاج کے دوران بننے والی کمیٹی کی سفارشات بھی محکمہ صحت نے نہیں مانی۔