2017 میں سندھ کی ماتحت عدالتوں نے انوکھے، غیر معمولی فیصلے سنائے


کراچی (24 نیوز) عدالتیں معاشرے کے لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کیلئے قائم کی جاتی ہیں، لیکن عدالتی فیصلوں میں انوکھی سزائیں سنائی جانا ایک غیر معمولی بات ہے۔ رواں سال سندھ کی عدالتوں میں ایسے فیصلے آئے جنہوں نے قانون سے وابستہ ہر شخص کی توجہ حاصل کی۔

ایک فیصلہ میں مجسٹریٹ نے غلط ڈرائیونگ کرنے والے ایک شہری محمد قاسم کو جیل بھیجنے کے بجائے انوکھی سزا سنائی۔ قاسم کو حکم دیا گیا کہ وہ مصروف چوراہے پر کھڑا ہوکر شہریوں کو ٹریفک قوانین کے احترام کی تلقین کرے۔

ایسے دو انوکھے فیصلے کراچی کے مجسٹریٹ شعیب الٰہی اور ایک فیصلہ لاڑکانہ کے مجسٹریٹ کی جانب سے سامنے آیا۔ عدالت نے چیک باؤنس کے مجرم کو پہلی بار جرم کرنے، شریف خاندان سے تعلق رکھنے اور جرم کی نوعیت کی کم سنگینی پر مسجد میں نماز جمعہ کے انتظامات کرنے کا حکم دیا جبکہ لاڑکانہ کی عدالت نے جوا کھیلنے والے مجرم کو اسکولوں میں ایک سال تک صفائی ستھرائی کے کام کرنے کا حکم دیا۔

ذرائع کے مطابق اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے ایسے فیصلوں کو عوامی سطح پر بھی بھرپور پذیرائی ملی۔

واضح رہے کہ ایسے فیصلے آج کے وقت کی ضرورت ہیں۔ جبکہ 1960 کے پروبیشن آف افینڈرز آرڈیننس کی شق پانچ کے تحت وہ جرائم جو سنگین نوعیت کے نہ ہوں، ایسی سزائیں دی جاسکتی ہیں جو معاشرہ کے لیے سبق سیکھنے کا بھی باعث ہوں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں، ایسی صورتحال میں یہ سزائیں معاشرہ کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔