نقیب اللہ محسود کی ہلاکت، رشتہ داروں نے جان کو خطرہ ظاہر کر دیا


کراچی (24نیوز) کراچی میں ہوئے مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے معاملے تحقیقات میں کوئی اہم پیشرفت نہ ہوسکی، نقیب کے رشتہ دار جان کا خطرہ ہونے پر انکوائری افسر کے سامنے پیش نہ ہوسکے، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی نے کے پی حکومت سے لواحقین کو سیکورٹی فراہم کرنے کی سفارش کر دی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں شاہ لطیف پولیس کے مبینہ مقابلے میں نقیب محسود کے قتل کے بعد اب تک اہلخانہ کے بیانات قلم بند نہیں ہوسکے ہیں، شمالی وزیرستان میں نقیب محسود کی تدفین لواحقین کے کراچی آنے پر ہی بیانات قلم بند کیئے جاسکیں گے، نقیب کے کزن نور رحمٰن نے کراچی آنے پر جان کو لاحق خطرات کا خدشہ بھی ظاہر کردیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی آنا مسئلہ نہیں لیکن سیکیورٹی رسک موجود ہے، نقیب کے بھائیوں کے ساتھ ہم کراچی آئیں گے لہٰذا حکومت سیکورٹی فراہم کرے کیونکہ کیس ایس ایس پی راوُ انوار کے خلاف ہے، نقیب محسود کے کزن کا کہنا ہے کہ سابق ایس ایس پی ملیر راوُ انوار کے خلاف مقدمہ اور انصاف چاہتے ہیں، سیکورٹی خدشات سامنے آنے کے بعد ایڈشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنااللہ عباسی نے نقیب کے کزن نور رحمٰن سے رابطہ کرکے سیکورٹی کی یقین دہانی کرادی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رابطے کے بعد آئی جی خیبر پختونخواہ نے لواحقین کو سیکیورٹی کے ساتھ کراچی بھیجنے کا کہا ہے، کوشش ہے کہ لواحقین جلد سے جلد آکر ملاقات کریں اور مقدمہ درج کروائیں، مقدمہ لواحقین کی مدیت میں ہی درج کیا جائے گا، انکوائری کمیٹی کے اجلاس بھی ہوں گے اور مزید پیش رفت بھی ہوگی۔