کیا مدینہ جیسی ریاست میں ایسا ہوتا ھے؟کئی سوالات اٹھ گئے


لاہور( 24نیوز ) سکیورٹی ادارے کلبھوشن اوراحسان اللہ احسان جیسے بڑے دہشت گردوں کو گرفتارکرسکتے ہیں تو ذیشان کو کیوں نہیں پکڑا گیا؟ دلیل اور ثبوت نہ ہونے کے باوجود حکومت نے ذیشان کو دہشت گرد کیسے قرار دے دیا ؟۔

مان لیا کہ ذیشان دہشت گردتھا،48 گھنٹے گزرگئے۔ کوئی اسلحہ،بارود برآمد ہوا؟ پھر کیوں اسے بے دردی سے بھون ڈالا گیا،کیاوہ انسان نہیں تھا؟ اس نے تو اپنی سیٹ بیلٹ بھی نہیں کھولی تھی۔

کلبھوشن اوراحسان اللہ احسان جیسے بڑے دہشت گرد گرفتار کئے جا سکتے ہیں تو کیا16 سی ٹی ڈی اہلکار ایک ذیشان کو زندہ نہیں پکڑسکتے تھے،کیاگولیاں برسانا ہی واحد آپشن تھا؟،کیاذیشان کی ماں ساری عمرایک دہشت گردکی ماں ہی کہلائے گی؟کیا ذیشان کا بھائی ایک دہشتگرد کابھائی کہلائے گا؟ حکومت کے پاس دلیل ہے نہ ثبوت۔۔ ؟نادرہ نے بھی ذیشان کومشکوک قرارنہیں دیا۔

حکومت نے جے آئی ٹی تو بنادی لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولیس والوں کی انکوائری بھی پولیس افسر ہی کریں گے؟کیا مدینہ کی ریاست میں ایسا ہی ہوتا تھا؟سی ٹی ڈی کی بہیمانہ کارروائی نے کئی سوالات اٹھادیئے۔