گھریلو ملازمہ قتل، ملزمان تاحال آزاد

گھریلو ملازمہ قتل، ملزمان تاحال آزاد


لاہور ( 24 نیوز )  ایک اورملازمہ کوقتل کردیا گیا، لواحقین کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی پرچوری کاجھوٹا الزام لگایا گیا، مقدمہ کے تمام ملزمان کوجلدگرفتار کیا جائے۔

تفصیلات کے مطابق سولہ سالہ عظمی کے ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے، لواحقین کا کہنا تھا کہ عظمیٰ اقبال ٹاؤن میں ماہ رخ نامی عورت کے گھر میں ملازم تھی، چند روز قبل عظمیٰ سے ملنے گئے تو گھر کی مالکن کی جانب سے بتایا گیا کہ عظمیٰ گھر سے زیورات چرا کر بھاگ گئی ہے لواحقین کی جانب سے جب تھانے میں عظمیٰ کے لاپتہ ہونے کی درخواست جمع کرائی گئی تو پتہ لگا کہ عظمی کی لاش اقبال ٹاؤن نالے سے ملی ہے۔

لواحقین نے گزشتہ روزعظمیٰ کی لاش بابو صابو انٹر چینج پر رکھ کراحتجاج بھی کیا جس پرپولیس نے تین مظاہرین کوگرفتار کر لیا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزموں کے ساتھیوں کی گرفتاری تک وہ عظمیٰ کا نماز جنازہ نہیں کرائیں گےجبکہ پولیس کی جانب سے عظمیٰ کے لواحقین کو یقین دہانی کے بعد نمازجنازہ ادا کردی گئی۔

دوسری جانب پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق عظمیٰ کو سرپر بھاری چیز سے وار گیا تھا جس کی وجہ سے اس کی موت ہوئی۔عظمیٰ کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے، ملزمہ ماہ رخ نے ہی ان کی بچی کا قتل کیا ہے۔والدین نےمطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے۔

Malik Sultan Awan

Content Writer