پانامہ لیکس نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا


لاہور( 24نیوز ) پاناما لیکس کا تہلکہ مچانے والی لاء فرم 75 فیصد کلائنٹ کو شناخت کرنے میں ناکام رہی،پاناما سکینڈل میں تین چوتھائی مالکان کی شناخت نہیں ہو سکی،برٹش ورجن آئرلینڈ کی 72 فیصد آف شور کمپنیوں کے مالکان کا بھی کھوج نہ لگایا گیا۔
پاناما پیپرز جاری کرنے والی قانونی فرم موسیک فونسیکاکی دوسری لیکس میں بڑے بڑے انکشافات ہوئے ہیں،فرم نے 12 لاکھ نئی دستاویزات میں انکشاف کیا کہ کمپنی پاناما میں آف شور کمپنیوں کے 75 فیصد اصل مالکان کو شناخت نہیں کرسکی، کہ برٹش ورجن آئرلینڈ کی 72 فیصدآف شور کمپنیوں کے اصل مالکان سے متعلق بھی فونسیکا لاعلم رہی۔
جرمن اخبار نے پاناما لیکس کی دستاویزات حاصل کرنے کے بعد آئی سی آئی جے کے ساتھ اس کا تبادلہ بھی کیا، موزیک فونسیکا نے آف شور کمپنیوں کے اصل مالکان کی شناخت کے لیے ان کے موکلوں سے بھی رابطے کیے،کمپنی نے لیک ہونے والی ایک کروڑ سے زائد فائلیں بھی دیکھیں۔
فونسیکا نے آف شور کمپنی مالکان سے پاسپورٹ کی کاپی، گیس بل اور ریفرنس لیٹر بھی اچانک مانگنا شروع کیے،پاناما پیپرز سامنے آتے ہی موزیک فونسیکا پر موکلوں کی ای میلز کا تانتا بندھ گیا تھا اور وہ جاننا چاہتے تھے کہ بینفیشل اونرشپ سے متعلق حساس معلومات افشا تو نہیں ہوگئیں؟؟

یہ خبر  ضرور پڑھیں: عمران خان، آصف زرداری اور مریم نواز کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئی
دوسری جانب سابق اٹارنی جنرل جسٹس ریٹائرڈ ملک عبدالقیوم نے بھی خود کو بے نامی کمپنی سے لاتعلق ظاہر کیا، لیکن انہوں نے بینک اکاو¿نٹ کھولنے سے متعلق اپنا ذہن تبدیل کرلیا، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ پاناما لیکس کے بعد یہ بات راز نہیں رہے گی، ملک قیوم نے دو نامعلوم کمپنیوں 'چیمبر ویل فنانشل' اور 'فرن برج ریسورسز' کی قانونی طور پر نمائندگی کی اور دونوں کو سوئس بینک میں اکاونٹ کھولنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس پر ان کی اہلیہ کے دستخط بھی موجود ہیں۔
نئی جاری دستاویزات میں دو خطوط بھی شامل ہیں، جو پامانا پیپرز کے افشاءکے دوسرے روز 6 اپریل 2016ء کو جاری ہوئے، جو فرن برج کے ڈائریکٹرز نے جاری کیے کہ ملک قیوم کمپنی کے قانونی نمائندہ ہیں۔اس کے علاوہ 14 اپریل 2016 کی تاریخ کے ساتھ دستخط شدہ خط میں فرن برج کے شیئر ہولڈرز اور ڈائریکٹرز نے کمپنی کے مجاز دستخط کنندہ کے طور پر انہیں ہٹائے جانے کی منظوری دی۔ اتفاق سے اس خط پر 13 اپریل کو دستخط کیے گئے اور ملک قیوم نے بھی تصدیق کی کہ وہ کمپنی کے قانونی نمائندہ نہیں رہے۔ واضح رہے کہ فرن برج کے ساتھ ان کے تعلق کا ڈائریکٹرز کی جانب سے ایک خط 27 اگست 2012ء کو جاری ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خوشحال پاکستان سکیم، ثبوت نہ ملنے پر نواز شریف کیخلاف انکوائری بند
رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی کی والدہ ثمینہ درانی نے پاناما پیپرز کے اجراءکی وجہ سے اپنے بیٹے عاصم اللہ درانی کو کمپنی کی منتقلی میں عجلت کی۔ 'ارمانی ریور' کمپنی اسد کو تحفے میں دی گئی جو برطانیہ میں جائیداد کے مالک ہیں۔ اس کی لاگت اندازاً 10 لاکھ پاو¿نڈ اسٹرلنگ بتائی گئی، جس کا ذریعہ ان کے مرحوم والد اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر شاکر اللہ درانی کی جانب سے بچت بتایا گیا۔ ثمینہ درانی کی دو دیگر آف شور کمپنیاں 'اسٹار پریسیشن'اور 'رین بو' ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں پاکستانی بینکار سلیم شیخ نے مستقبل میں مزید کسی 'لیک' کے ذریعے پشیمانی اور ہراساں کیے جانے سے بچاو کے لیے لاءفرم سے وضاحت مانگی۔ ان کی اس تشویش کا جواب دینے کے بجائے موسیک فونسیکا نے اپریل 2017ء میں برٹش ورجن آئی لینڈز میں کمپنیوں کے مالک پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز سمیت انہیں بھی نوٹس جاری کردیے۔
موسیک فونسیکا کی اس نئی لیک سے معلوم ہوا ہے کہ اس لاءفرم کو نتائج سے نمٹنے میں کتنی جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا،نئی لیکس کے مطابق موزیک فونسیکا 2016 میں ہونے والے انکشافات کے نتائج جمع کرنے کی کوشش میں تھی، کمپنی نے اس دوران لیک ہونے والی اپنے موکلوں کی ایک کروڑ سے زائد فائلیں دیکھیں اور مالکان سے پاسپورٹ کاپی، گیس بل اور ریفرنس لیٹر بھی اچانک مانگنا شروع کردیئے، جس پر موکل پریشان ہوگئے کہ کہیں بینیفیشل اونرشپ سے متعلق معلومات تو افشا نہیں ہوگئیں۔
عالمی سطح پر جانچ پڑتال کے سبب کمپنی نے موکلوں سے تعلق کو چھپانے کے لیے اپنا کاروباری نام بھی بدلا، تاہم وہ پاناما میں قائم 10 ہزار 500 میں سے 75 فیصد آف شور کمپنیوں کے مالکان کی شناخت نہ کرسکی،اسی طرح برٹش ورجن آئی لینڈ میں سرگرم 28 ہزار 500 کمپنیوں میں سے 70 فیصد کے مالکان کی نشاندہی میں بھی موزیک فونسیکا ناکام رہی۔