پی ایس او اور اوگرا مل کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں: چیف جسٹس

پی ایس او اور اوگرا مل کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں: چیف جسٹس


  کراچی ( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس میں چیئرمین ایف بی آر،ایم ڈی پی ایس او، متعلقہ وزراء ، سیکریٹریز اور آئل کمپنیوں کےنمائندوں کو کل تفصیلات کے ساتھ طلب کرلیا۔

’’کس قانون کے تحت آئل کمپنیوں کو اتنا بھاری مارجن دیا جارہا ہے‘‘

چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا ہے کہ کس قانون کے تحت آئل کمپنیوں کو اتنا بھاری مارجن دیا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے من میں جو آتا ہے کرتے ہو، لوگوں کو ٹیکس لگا لگا کے پاگل کردیا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پیٹرول کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں پی ایس او کے سی ای او، ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر اور آئل کمپنیوں کے نمائندے پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:چیف جسٹس پیپلز پارٹی کی سابقہ صوبائی حکومت کی کارکردگی پر برہم 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ایس او اور اوگرا مل کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ ایم ڈی پی ایس اور بلانے کے باوجود کیوں نہیں آئے؟ دوران سماعت ڈپٹی ایم ڈی پی ایس او نے عدالت کو قیمت کے تعین کے حوالے سے بتایا کہ 62اعشاریہ 38فی لیٹر قیمت کا تعین ہے۔ وزارت پیٹرولیم 9 روپے 85 پیسے پیٹرولیم لیوی ٹیکس لیتی ہے ۔ تین روپے 83 پیسےآئل کمپنیوں کامارجن ہے ۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا کہ کس قانون کے تحت آئل کمپنیوں کو اتنا بھاری مارجن دیا جارہاہے۔

پڑھنا نہ بھولیں:زلفی بخاری کیس:وزارت دفاع سے جواب طلب 

 بعد ازاں چیئرمین ایف بی آر، ایم ڈی پی ایس او، متعلقہ وزراء، سیکریٹریز اور آئل کمپنیوں نمائندوں کو کل ہر صورت میں گزشتہ 6 ماہ کی رپورٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا اورسماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

شازیہ بشیر

   Shazia Bashir   Edito