میرے خلاف بلیک لاء ڈکشنری کا سہارا لے کرفیصلہ لکھا گیا : نواز شریف


اسلام آباد (24نیوز)  سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اداروں کی عزت کرنے والا بندہ ہوں، جو فیصلہ آیا وہ میری اور قوم کی نظر میں ٹھیک نہیں تھا۔

وفاقی دالحکومت کی احتساب عدالت میں العزیزیہ اسٹیل ملز  کی ریفرنس کی سماعت ہوئی ۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے میڈیا سے  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اداروں کی عزت کرنے والے شخص ہوں،میرے کے خلاف جو فیصلہ آیا وہ قوم کی نظر میں بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ بلیک لاڈکشنری کا سہارا لے کرفیصلہ لکھا گیا ہے، فیصلے پر تنقید کرنا میرا اورپارٹی کا حق ہے،اب حالات اس طرف جا رہے کہ میرے خلاف توہین عدالت پر فل بنچ بنا دیا گیا ہے.

یہ خبر بھی پڑھیں :  اساتذہ کی بالآخر سنی گئی, وزیراعلیٰ پنجاب نے خوشخبری سنا دی

نواز شریف نے کہا کہ انہیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا اور وہ بھی بلیک لاء ڈکشنری کا سہارا لے کر، لہذا 'میں کیسے اس فیصلے کو قبول کرتا۔ اب تو نیازی صاحب نے بھی کہا کہ پاناما کا فیصلہ کمزور فیصلہ ہے۔ اب تو عدالت کے اندر اور باہر دونو ں جانب سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ فیصلے اپنے منہ سے ہمیشہ خود بولتے ہیں کہ کس کا فیصلہ کس طرح کا ہونا چاہئے۔ فیصلے دینے والے بھی غور کریں کہ ان کے یہ فیصلے لوگوں کو قبول بھی ہوتے ہیں ۔

یاد رہے کہ سابق وزیر   نواز شریف کیخلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی ہو گئی ہے۔