نگران وزیر اعظم: حکومت اور اپوزیشن اپنے امیدوار سامنے لے آئیں

نگران وزیر اعظم: حکومت اور اپوزیشن اپنے امیدوار سامنے لے آئیں


اسلام آباد(24نیوز)پاکستان میں سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ نگران وزیر اعظم کا موضوع اس وقت زبان زد عام ہے۔ کون سنبھالے گا تین ماہ کے لیے ملک کی بھاگ ڈور؟ یہ وہ سوال ہے جو سبھی کی زبانوں پر ہے۔

تفصیلات کے مطابق نگران وزیر اعظم کی تقرری کا معاملہ حل طلب ہے جس کا حل ڈھونڈنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے پاس بہت کم وقت رہ رہ گیا ہے۔ نگران وزیر اعظم کی تقرری کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے پاس تیرہ دن باقی ہیں.

موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت 31 مئی کو ختم ہو جائے گی۔ اسمبلی کی مدت پوری ہونے کے بعد تین دن کے اندر حکومت اور اپوزیشن نگران وزیراعظم کا نام پیش کرسکتےہیں۔ ناکامی کی صورت میں اگلے تین دن میں اسپیکر اور پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نگران وزیراعظم کا انتخاب کریں گے۔

موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت 31 مئی کو ختم ہو جائے گی

اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں نے اپنے اپنے نام سامنے کا اعلان کیا تھا۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنے امیدواروں کے نام فائنل کیے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن پارٹی نے بھی نگران وزیراعظم کے لیے اپنے پتے شو کر دئیے ہیں۔

 چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نگران وزیر اعظم کے لیے ذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے ناموں کو فائنل کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وزیراعظم کو نام دے دیئے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری اور  آصف علی زرداری نےذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام فائنل کیے ہیں

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دونوں امیدواروں کو ٹیلی فون کیا اور اپنا تبادلہ خیال کیا۔ اصف زرداری کا کہنا تھا کہ دونوں امیدوار محنتی اور ایماندار ہیں جس کی وجہ سے ان کے ناموں پر غور کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے زیر نگرانی انتخابات سے کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ ذکا اشرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور جلیل عباس سابق سفیر رہ چکے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکمران جماعت ان ناموں کو قبول کرے گی یا نہیں ، اس بات کا فیصلہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے مابین کل ہونے والی میٹنگ میں ہوگا۔

ذکا اشرف نے پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا

اس سے قبل نگران وزیر اعظم کی تعیناتی کے سلسلہ میں ذکا اشرف نے پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) سے استعفیٰ دے دیا۔ زکا اشرف نے استعفیٰ دس دن پہلے سابق صدر آصف علی زرداری کے کہنے پر دیا۔ استعفیٰ کے بعد نگران وزیراعظم کے لیے زکا اشرف کا نام تجویز کیا گیا۔

واضح رہے کہ 19 مئی کو پیپلز پارٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ نگران وزیر اعظم کا انتخاب چھوٹے صوبوں سے کیا جائے گا،  اپوزیشن جماعت نے فاٹا سے انجینئر شوکت اللہ کا نام  جبکہ بلوچستان سے ذوالفقار مگسی کے نام کی تجویز سامنے رکھی تھی۔

اپوزیشن نے فاٹا سے انجینئر شوکت اللہ اور بلوچستان سے ذوالفقار مگسی کے نام بھی تجویز کیے تھے

24 نیوز ذرائع کے مطابق ن لیگ نے جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک، تصدق حسین جیلانی اور عشرت حسین کے نام پیش کردیے ہیں۔ سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر،ملیحہ لودھی، سابق گورنر اویس غنی،سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد اور عبداللہ حسین ہارون بھی وزیراعظم کے دوڈ میں شامل ہیں۔

وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر اگر نام فائنل نہ کر سکے تو پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرے گی

یہ بھی یاد رہے کہ نگران وزیراعظم کے فیصلہ کے لیے صرف 13 روز باقی ہیں۔ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر فائنل نہ کر سکے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کےپاس چلا جائے گا۔ تین روز میں کمیٹی بھی اتفاق نہ کر سکی تو نگران وزیراعظم کا نام الیکشن کمیشن فائنل کرےگا۔ الیکشن کمیشن کے پاس حکومت اور اپوزیشن کے ناموں میں سے ایک نام کے انتخاب کا اختیار ہوگا۔

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔