حکومت کو اضافی چارج پر چلنے والے تحقیقاتی اداروں کا خیال آہی گیا

حکومت کو اضافی چارج پر چلنے والے تحقیقاتی اداروں کا خیال آہی گیا


اسلام آباد(بابر شہزاد ) وفاقی حکومت نے سوا برس سے اضافی چارج پر چلنے والے اہم ترین تحقیقاتی اداروں کے مستقل سربراہان مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا، جبکہ بیوروکریسی میں ایک بار پھر تقرر و تبادلے کردیئے گئے۔

 تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے ایک سال سے زائد عرصے سے اضافی چارج پر چلنے والے اہم ترین تحقیقاتی اداروں کے مستقل سربراہان مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وفاق نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے پانچ ذیلی اداروں پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، پاکستان آبی وسائل تحقیقی کونسل، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس اور پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل کے سربراہان لگانے کا فیصلہ کیا ہے.

اِن ذیلی اداروں میں گریڈ 21 اور 22 کے افسر وفاقی کابینہ کے 22 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس سے منظوری کے بعد 3 برس کے لئے سربراہ تعینات کئے جائیں گے,پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کا سربراہ ڈاکٹر شہزاد عالم، پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا سربراہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری، پاکستان آبی وسائل تحقیقی کونسل کا سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس کا سربراہ عرفان احمد ربانی اور پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کونسل کی سربراہ عصمت گُل خٹک کو لگائے جانے کی تجویز کابینہ میں زیر غور آئے گی۔

دوسری جانب وفاقی بیورو کریسی میں مزید تقرر و تبادلے کردیئےگئے، ڈاکٹر عصمت طاہرہ مینیجنگ ڈائریکٹر نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ تعینات جبکہ تقرری کے منتظر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گریڈ 19 کے افسر امیر سلطان ترین کی خدمات خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کر دی گئیں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تقرر و تبادلوں کے نوٹیفکیشنز جاری کر دیئے۔