میرا نام بھی چھین سکتے ہو تو چھین لو:نواز شریف

10:00 AM, 22 Feb, 2018

اظہر تھراج
Read more!

اسلام آباد (24نیوز) سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ 28 جولائی کے فیصلے میں ان کی وزارت عظمیٰ اور کل (21 فروری) کے فیصلے میں ان کی پارٹی صدارت بھی چھین لی گئی۔ اب ان کے پاس ان کا نام ’محمد نواز شریف ‘ ہی بچا ہے اس کو بھی آئین کی کسی شق کے تحت چھین لیا جائے۔
احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کل کا فیصلہ ان کیلئے غیر متوقع نہیں تھا، پہلے فیصلے نے حکومت کو مفلوج کردیا اور ایگزیکٹو کا اختیار چھین لیا گیا اور کل کے فیصلے سے مقننہ کا اختیار بھی چھین لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 28 جولائی کے فیصلے میں ان کی وزارت عظمیٰ اور کل کے فیصلے میں ان کی پارٹی صدارت چھین لی گئی۔ ’’ میرا نام محمد نواز شریف ہے، اس کو بھی چھیننا ہے تو چھین لو، آئین کے اندر ایسی شق ڈھونڈ لو جس سے آپ کو اس کام میں مدد مل سکے اور اگر کوئی شق نہیں ملتی تو بلیک لا ڈکشنری کی مدد حاصل کرلو‘‘۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر آپ وزیر اعظم کو نکال دو لیکن انہیں نکالنے کیلئے بلیک لا ڈکشنری کی مدد لی گئی اور کل جو فیصلہ ہوا ہے اس کی بنیاد بھی وہی فیصلہ ہے کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔پہلے وزارت عظمی اور کل پارٹی کی صدارت چھینی گئی اور اب مزید غوروخوض کر رہے ہیں کہ نواز شریف کو سیاست سے ہمیشہ کیلئے آ?ٹ کردیں اور اسے عمر بھر کیلئے نا اہل کردیں۔
نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے سوال اٹھایا اور کہا یہ سب کیا ہے؟ ’’یہ بھی کہا گیا کہ اس قانون سے ایک شخص کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی حالانکہ سپریم کورٹ کے یکے بعد دیگرے آنے والے فیصلے نواز شریف کی ذات کے گرد گھومتے ہیں، یہ فیصلے غصے، انتقام اور بغض میں دیے جا رہے ہیں۔

مزیدخبریں