ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف کے وکیل کے سوال پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اُٹھا

ایون فیلڈ ریفرنس: نواز شریف کے وکیل کے سوال پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اُٹھا


اسلام آباد (24 نیوز) ایون فیلڈ ریفرنس کی احستاب عدالت میں سماعت کل تک ملتوی ہو گئی۔ نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے لندن ہائی کمیشن میں گواہوں سے جرح کی۔

خواجہ حارث نے فرانزک لیب کے سربراہ اور تحقیقاتی کمیٹی کے گواہ رابرٹ ریڈلے سے سوال کیا کہ کیا یہ نوٹس جرح کے لے تیار کیے گئے ہیں؟ جس پر رابرٹ ریڈلے نے جواب دیا کہ نوٹس جرح کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ کل اس حوالے سے میٹنگ بھی ہوئی۔ خواجہ حارث نے سوال کیا کہ میٹنگ کس حوالے سے ہوئی جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ سوال متعلقہ نہیں ہے، وہ یہاں سپریم کورٹ کے حکم پر ہیں، خواجہ حارث نے کہا کہ پھر کل کی میٹنگ بھی سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئی ہو گی۔ جس پر عدالت میں قہقے لگے۔

یہ بھی پڑھئے: احد چیمہ گروپ کی وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات، ہڑتال کی دھمکی

گواہ رابرٹ ریڈلے کا کہنا تھا کہ ونڈو وسٹا بیٹا کا پہلا ایڈیشن 2005 میں آئی ٹی ایکسپرٹ کے لیے جاری ہوا تھا۔ خواجہ حارث کے سوال پر کہ کیا پری لانچ ایڈیشن کے ساتھ کیلیبری فونٹ کی سہولت موجود تھی؟ رابرٹ ریڈلے نے جواب دیا کہ سہولت موجود تھی لیکن صرف ٹیسٹ کے لیے۔

وکیل نے مزید پوچھا کہ کیا یہ درست ہے ہزاروں لوگ کیلیبری فونٹ استعمال کر رہے تھے؟ جس پر رابرٹ ریڈلے نے جواب دیا کہ یہ بات درست نہیں۔ محدود پیمانے پر صرف آئی ٹی ماہرین کو لائسنس کے ساتھ ٹیسٹ کے لیے فراہم کیا گیا تھا۔

ویڈیو دیکھیں: