چین میں مسلمانوں کا جینا محال کردیا گیا

چین میں مسلمانوں کا جینا محال کردیا گیا


 سنکیانگ (24 نیوز) چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کی نگرانی کیلئے ڈی این اے کی بُنیا د پرڈیٹا بیس کی تیاری کی جارہی ہے، جدید آلات سے خون کے نمونے، چہرے کی اسکینگ اور آواز ریکارڈ کی جاتی ہے، ڈیٹا بیس کا مقصد مُسلمانوں کی نگرانی ہے۔

چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں اویغور مسلمانوں کا ڈی این اے کی بنیا د پر بڑے پیمانے پر ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے، منصوبے پر عمل مفت علاج کی سہولت کے نام پر کیا جا رہا ہے، درحقیقت اس کا مقصد اویغور مسلمانوں کی نگرانی کرنا ہے، چینی پولیس اس کیلئے امریکی بائیو ٹیک فرم کے تھرمو فشر آلات استعمال کررہی ہے۔

جس کے ذریعے ناصرف خون کے نمونے لیے جاتے ہیں بلکہ چہروں کی اسکینگ اور آواز بھی ریکارڈ کی جاتی ہے، اس کا انکشاف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔  چینی حکومت اس ڈیٹا بیس کی مدد سے اویغور مسلمانوں کی نقل و حرکت پر نظررکھتی ہے۔

واضح رہے سنکیانگ صوبے میں مسلمانوں کی تعداد ساڑھے 3 کروڑ ہے، اخبار کے مطابق یہ نمونے 2016 سے جمع کیے جارہے ہیں، انسانی حقوق کی تنظمیوں نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔