چاند کس کا ہے؟ حق ملکیت کی ’’جنگ‘‘چھڑنے کا خدشہ

چاند کس کا ہے؟ حق ملکیت کی ’’جنگ‘‘چھڑنے کا خدشہ


لندن (24نیوز) چاند پر پہلے انسانی قدم کو تقریباً 50 برس گزر چکے ہیں، نیل آرمسٹرانگ وہ پہلا انسان تھا جس نے چاند پر قدم رکھا،اس تاریخی قدم کے تھوڑی دیر بعد ہی نیل آرمسٹرانگ کے ہمسفر بز ایڈرن بھی اس پرسکون سمندر‘ میں قدم رکھ چکے تھے۔ چاند گاڑی ایگل کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے جب بز ایڈرن نے چاند کی دور دور تک خالی سطح پر نظر دوڑائی تو اسے ایک ’شاندار ویرانی‘ سے تعبیر کیا تھا۔

اسی چاند پر اب حق ملکیت کیلئے جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے کیونکہ اب کئی ایک کمپنیاں نہ صرف چاند کی سطح کے بارے میں مزید کھوج لگانے میں دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں بلکہ اسے کھود کر وہاں سے سونا، پلاٹینم اور الیٹکرونکس میں استعمال ہونے والی دیگر معدنیات نکالنے کا بھی سوچ رہی ہیں۔

 بی بی سی مطابق جولائی سنہ 1969 کے اِس اپالو 11 مشن کے بعد سے چاند انسانی ہاتھوں سے زیادہ تر دور ہی رہا اور سنہ 1972 کے بعد کوئی انسان وہاں نہیں اترا،پچھلے ہی ماہ چینی ماہرین نے چاند کے اس حصے پر اپنا خلائی مشن اتارا جو ہمیں زمین سے دکھائی نہیں دیتا اور وہاں کپاس کا بیج اگانے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ لگتا ہے اب چین وہاں ایک تحقیقی مرکز بھی قائم کر دے گا۔

ایسے میں کیا کوئی قوانین یا اصول موجود ہیں جن کے اطلاق سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایڈرن کی ’شاندار ویرانی‘ اپنی جگہ پر قائم رہے؟مغرب اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے دنوں سے خلا میں چھان بین اور خلائی اجسام پر پائے جانے والے ممکنہ قدرتی وسائل پر حق کے حوالے سے بحث ہوتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے سنہ 1967 میں امریکہ ، برطانیہ اور سوویت یونین سے ایک ایسے معاہدے پر دستخط کروائے جب امریکہ کا خلائی ادارہ ناسا چاند پر انسانی مشن بھیجنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اقوام متحدہ میں ہونے والے اس معاہدے کو 'آؤٹر سپیس ٹریٹی' کے طور پر جانا جاتا ہے، چاند کی زمین کی ملکیت یا اس پر کان کنی کا حق کس کے پاس ہے اور کس کے پاس نہیں۔ تاہم جوں جوں ٹیکنالوجی میں ترقی ہوئی ہے چاند کے ممکنہ وسائل سے منافع کمانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اب بھی یہ بات ہے تو مستقبل بعید کی لیکن اس کے امکانات بہرحال زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔

اسی خیال کے پیش نظر اقوام متحدہ نے ’ میثاقِ قمر ‘ کے نام سے ایک معاہدہ جاری کیا تھا جس کا مقصد چاند اور دیگر آسمانی اجسام پر مختلف ممالک کی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں رکھنا ہے،لیکن ’میثاق قمر‘ میں مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک اس پر صرف 11 ممالک نے دستخط کیے ہیں۔ فرانس اور انڈیا نے بھی دستخط کر دیے ہیں لیکن خلائی میدان کے بڑے کھلاڑیوں، مثلاً چین، امریکہ اور روس نے اس پر دستخط نہیں کیے اور نہ ہی برطانیہ نے ایسا کیا ہے،اب لگتا ہے یہ کہ انسان زمین جنگ چاند پر لڑیں گے۔

اظہر تھراج

Senior Content Writer