خطرے کی گھنٹی، پاکستانی سمندر میں دوسرا جل بگولہ

خطرے کی گھنٹی، پاکستانی سمندر میں دوسرا جل بگولہ


کراچی(24نیوز)پاکستان کی تاریخ کا دوسراجل بگولہ گھوڑا باڑی کے ساحل سے 57 کلومیٹر دور نظر آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سمندری ساحل کی حدود میں جل بگولہ نظر آیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ دوسرا بگولہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ گھوڑہ باڑی ساحل سے 57 کلومیٹر دور نظر آیا ہے۔ترجمان ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق گزشتہ روز ماہی گیر کیپٹن سعید زمان نے اس منظر کو دیکھا جسے اس نے ریکارڈ  کرلیا۔ کیپٹن کے مطابق اس نے جیسے ہی آبی بگولہ دیکھا تو کشتی کا رخ دوسری جانب کرلیا جس کی وجہ وہ اس بگولہ سے محفوظ رہا۔

ترجمان ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق یہ پاکستانی سمندر میں بگولہ نظر آنے کا دوسرا ریکارڈ ہے۔ اس سے پہلے 2016 میں پہلا بگولہ دیکھا گیا تھا۔

جل بگولہ کیا ہے؟

 سمندر کی سطح سے بادلوں تک آبی بخارات کی ایک لہر کو جل بگولہ کہتے ہیں، یہ زیادہ تر گرم پانی میں بنتا ہے اور ہواؤں میں شامل آبی بخارات اور خاص قسم کے درجہ حرارت کی وجہ سے وجود میں آتا ہے۔یہ آبی حیات اور انسانوں کیلئے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔