نگران وزیر اعظم کی تعیناتی میں رکاوٹ نواز شریف ہیں: ذرائع


اسلام آباد(24نیوز)  نگراں وزیراعظم کی منتخبی کے لیے  وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر  قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے درمیان آج حتمی مشاورت کیلئے ملاقات ہوئی لیکن ملاقات بے نتیجہ رہی اور کسی نام پر اتفاق نہ ہوسکا۔ذرائع کے مطابق ایک دو دن میں دوبارہ ملاقات کی جائے گی۔

نگران وزیراعظم کون ہو، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان آج ہوئے ملاقات کے دو دور،لیکن دونوں ادوار میں نگران وزیر اعظم کا نام فائنل نہیں ہوسکا۔اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اور وزیراعظم میں پہلی ملاقات تھی غیر رسمی، یہ ملاقات وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے رہائش گاہ پر ہوئی، نگران وزیر اعظم کے نام پر پندرہ منٹ تک مشاورت جاری رہی، لیکن بے نتیجہ نکلی۔

دوسری ملاقات کیلئے اپوزیشن لیڈر وزیراعظم آفس پہنچے، لیکن ملاقات کے بعد خورشید شاہ نے وزیراعظم سے ایک اور ملاقات کا پروگرام سنا دیا،،کہنے لگے پوری کوشش ہے نام جلد فائنل ہو جائے۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف جج یا بیوروکریٹ کو بطور نگران وزیر اعظم نہیں دیکھنا چاہتے، وزیر اعظم عباسی نے نواز شریف کو منانے کیلئے مانگ لی، نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں پارلیمانی کمیٹی کو چار نام بھیجوائے جائیں گے،پارلیمانی کمیٹی کسی ایک کو نگران وزیر اعظم منتخب کریگی۔پارلیمانی کمیٹی معاملہ طے نہ کر سکی تو فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔

نگراں وزیر اعظم کیلئے حکومتی ارکان:  

نگران وزیر اعظم کیلئے ہر جماعت کی جانب سے اپنے اپنے نام پیش کیے جارہے ہیں ، حکمران جماعت نے نگراں وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) ناصر الملک، جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی اور ڈاکٹر شمشاد اختر کا انتخاب کیا ہے۔

پیپلز پارٹی امیدواران: 

 چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے نگران وزیر اعظم کے لیے ذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے ناموں کو فائنل کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے وزیراعظم کو نام دے دیئے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری اور  آصف علی زرداری نےذکاء اشرف اور جلیل عباس جیلانی کے نام فائنل کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نگران وزیر اعظم، حکومت اور اپوزیشن اپنے امیدوار سامنے لے آئیں 

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے دونوں امیدواروں کو ٹیلی فون کیا اور اپنا تبادلہ خیال کیا۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ دونوں امیدوار محنتی اور ایماندار ہیں جس کی وجہ سے ان کے ناموں پر غور کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے زیر نگرانی انتخابات سے کسی کو کوئی شکایت نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ ذکا اشرف پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور جلیل عباس سابق سفیر رہ چکے ہیں۔

تحریک انصاف : 

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سابق گورنر عشرت حسین اور معروف صنعت کار عبد الرزاق داؤد کے نام دیئے گئے ہیں۔جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے  تصدق حسین جیلانی کا بھی نام تجویز کیا گیا ہے۔

  نگران وزیر اعظم سلیکشن کا طریقہ کار: 

نگران وزیرِ اعظم کی نامزدگی کے لیے اٹھارہویں ترمیم میں تین مختلف راستے وضع کیے گئے ہیں۔

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 224کے تحت قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف باہمی مشاورت سے نگران وزیراعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق کرلیں، جس کو صدرِ مملکت بطور نگران وزیر اعظم تعینات کریں گے۔

بریدنگ اسپیس

قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان نگران وزیرِ اعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جائے گا جو آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے، اس کمیٹی میں قائدِحزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم دو دو نام دیں گے، جبکہ سینیٹ یا قومی اسمبلی یا دونوں ایوانوں سے کل آٹھ ارکان اس کمیٹی کے ممبر ہوں گے ۔ یہ پارلیمانی کمیٹی تین دن میں نگران وزیرِ اعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

اگر پارلیمانی کمیٹی بھی کسی ایک نام پر اتفاق نہ کر پائے تو معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔پارلیمانی کمیٹی مجوزہ نام الیکشن کمیشن کے پانچ ممبران کو بھیجے گی۔ یہ ارکان 48 گھنٹوں میں فیصلہ کریں گے کہ نگران وزیر اعظم کون ہوگا۔2013میں بھی نگران وزیراعظم کا تقرر الیکشن کمیشن کے فیصلے پرہوا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے نگران وزیراعظم کیلئے پیپلز پارٹی کے نام مسترد کر دیئے 

  نگران وزیر اعظم کی تقرری کا معاملہ حل طلب ہے جس کا حل ڈھونڈنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ نگران وزیر اعظم کی تقرری کے لیے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے پاس تیرہ دن باقی ہیں.

موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت کب ختم ہو گی: 

موجودہ اسمبلیوں کی آئینی مدت 31 مئی کو ختم ہو جائے گی۔جس کے بعد نگراں حکومت آئندہ انتخابات تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

 

وقار نیازی

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔