الیکشن کمیشن؛ عام انتخابات میں بیلٹ پیپرز سے متعلق حکمت عملی طے کرلی

الیکشن کمیشن؛ عام انتخابات میں بیلٹ پیپرز سے متعلق حکمت عملی طے کرلی


اسلام آباد (24 نیوز) الیکشن کمیشن عام انتخابات میں اضافی بیلٹ پیپرز نہیں چپوائےگا،  حلقوں میں سو کے حساب سے راونڈ بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے، کسی پولنگ اسٹیشن پر 1201 سے 1299 ووٹرز ہوئے تو 1300 بیلٹ پیپرز چھپیں گے۔

 24 نیوز ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن نے عام انتخابات 2018ء میں بیلٹ پیپرز سے متعلق حکمت عملی طے کرلی۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن صرف 3 سرکاری پرنٹنگ پریسوں سے بیلٹ پیپرز چھپوائے گا۔

خیبرپختونخوا، فاٹا اور اسلام آباد کے حلقوں کے بیلٹ پیپرز پرنٹنگ کارپوریشن، بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے بیلٹ پیپرز نیشنل سیکورٹی پرنٹنگ پریس جبکہ پنجاب کے باقی ماندہ حلقوں کے بیلٹ پیپرز پوسٹل پرنٹنگ پریس چھاپے گا۔

یہ خبر بھی پڑھیں:  مراد علی شاہ نے سندھ میں الگ صوبے کی بات کرنے والوں پر لعنت بھیج دی

 الیکشن کمیشن عام انتخابات میں مجموعی طور پر 21 کروڑ سے زائد بیلٹ پیپرز چھاپے گا۔ عام انتخابات میں 21 ارب روپے سے زائد کے اخراجات ہونے کے امکان بھی ہیں۔ جس میں سے 11 ارب روپے وزارت خزانہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کو جاری کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب صوبائی الیکشن کمشنرز نے پولنگ اسٹیشنز اور پولنگ بوتھ کا ڈیٹا الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا۔ ذرائع کے مطابق ملک بھرمیں 85 ہزار 252 پولنگ اسٹیشنز جبکہ 2 لاکھ 41 ہزار 132 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے، اسلام آباد سمیت پنجاب میں 48 ہزار 610 پولنگ اسٹیشنز اور ایک لاکھ 31 ہزار 26 پولنگ بوتھ ہوں گے۔

پڑھنا مت بھولئے:  گلگت بلتستان اسمبلی کو مکمل اختیارات مل گئے

ذرائع کے مطابق، فاٹا اور خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 522 پولنگ اسٹیشنز جبکہ 42 ہزار 871 پولنگ بوتھ ہوں گے۔ سندھ میں 17 ہزار 627 پولنگ اسٹیشنز، 55 ہزار 822 پولنگ بوتھ قائم، بلوچستان میں 4 ہزار 493 پولنگ اسٹیشنز اور 11 ہزار 413 پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔