قاتل ڈینگی نے چار افراد کی جان لے لی

قاتل ڈینگی نے چار افراد کی جان لے لی


(24نیوز) ملک کے بیشتر حصوں میں ڈینگی مچھر نے اپنے پنجھے گاڑھ رکھے ہیں،قاتل مچھر مزید تین جانیں لے گیا جبکہخیبر پختونخوا میں پانچ روز میں چار ہلاکتیں ہوگئیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اورخیبر پختونخوا میں ڈینگی بے قابو  ہوگیا، پشاور میں سترہ سال کی نبیلہ ، تیرہ سال کی رمشا اور ضلع خیبر میں اسرار جاں بحق ہوگیا، خیبر پختونخوا میں پانچ روز میں چار  افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں پشاور سے تعلق رکھنے والی دو کمسن بچیاں بھی شامل ہیں،صوبے میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 3000 افراد ڈینگی سے متاثر ہیں،پشاور کے ملحقہ علاقوں میں یہ تعداد سینکڑوں میں ہے مگر صوبائی حکومت حالات سے بے خبر سب اچھا سب اچھا کر رہی ہے،صوبے میں ڈینگی سے متاثر شہروں میں پشاور سرفہرست جبکہ ملاکنڈ ڈویژن میں بھی تعداد سینکڑوں میں ہے،متاثرہ علاقوں میں تاحال مچھرمار اسپرے نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد میں ڈینگی کے حملے جاری ہیں، مگر میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے شعبہ ہیلتھ سروسز کے پاس سٹاف اور فنڈز کی کمی ہے،ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈاکٹر حسن عروج نے مختلف شعبوں سے اضافی فیلڈ سٹاف مانگ لیا،ادھر آئی ایم سی کے پاس فنڈز کی کمی کی وجہ سے پچھلا سٹاک سپرے استعمال کیا جارہا ہے،شعبہ انوائرنمنٹ نے فیلڈ سٹاف ڈی ایس ایچ کو بھجوادیا،ڈینگی سپرے اور دیگر انتظامات کیلئے شہری علاقوں میں فیلڈ سٹاف کو تعینات کیا گیا ہے۔

پنجاب میں بھی ڈینگی کے وار جاری ہیں،سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی عملے کاغیرذمہ درانہ روئیے سے متاثرہ شخص منظر عام پر آیاہے،چھبیس سالہ عاصم ڈینگی علامات پر شاہدرہ ہسپتال پہنچا جہاں اسے منفی رپورٹ تھما دی گئی،بخار نہ ٹوٹنے پر مریض کو شالامار ہسپتال لایا گیا تو ڈینگی کی تصدیق ہوگئی۔

گوجرانوالہ میں 6 مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوگئی ،مریض ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زیر علاج ہیں،انسداد ڈینگی مہم کے انچارج ڈاکٹر معیز کے مطابق شہرکے پانچ سو سے زائد مقامات سےڈینگی لارواملا ہے،ڈینگی لاروا کو تلف کرنے کے لیے سپرے کیا جارہا ہے،ضلع بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

عارف والا میں بھی ڈینگی کی انٹری ہوگئی ہے اورڈینگی کا ایک کیس سامنے آیا،سی بلاک کے رہائشی اعجاز میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہونے پرٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے،ہسپتال میں ڈینگی کے مریضوں کے لیے انتظامات غیر تسلی بخش ہونے پر مریض کے لواحقین نے پردہ چاک کردیا،ڈینگی کے مریض کو بھی جنرل وارڈ میں داخل کیا گیا ، ہسپتال میں میڈیسن بھی ناپید ہیں، لواحقین کا کہناتھا کہ ڈینگی مریض کے ساتھ عام مریضوں جیسا سلوک کیا جارہا۔

سندھ میں ڈینگی کے وار اور کتے سے کاٹے کی ویکسن کی کمی کے بعد ہیپاٹائٹس کی ویکسن اورادویات بھی ناپید ہوگئیں ، تیس کروڑ کے بجٹ کے باوجود سندھ ہیپاٹائٹس کنٹرول کے پروگرام منیجر ادویات اور ویکسن کا بندوبست نہ کرسکے ،ہیپاٹائٹس سی کی ادویات کو ختم ہوئے دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزرگیا، ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین بھی بیس روز سے ختم ہوگئی، ہیپاٹائٹس سی کے ڈھائی لاکھ مریض رجسٹرڈ جبکہ تیرا ہزار سے زائد زیر علاج ہیں۔

جہلم میں بھی ڈینگی وائرس بے قابو گیا، ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعدا دمیں مسلسل اضافہ ہورہاہے، ڈینگی وائرس سے متاثرہ مزید تین مریض جہلم کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں، جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد چالیس ہوگئی۔