الیکشن کمیشن کے اقدام پر نوٹس،چیف جسٹس نے نواز شریف کو خوشخبری سنادی


اسلام آباد( 24نیوز ) سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی طرف سے بھرتیوں پرپابندی کے کیس میں اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرنلز کو نوٹسز جاری کردئیے،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دئیے کہ اسمبلیاں تحلیل ہونے سے پہلے کیاایسا حکم دیاجاسکتا ہے، عام انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہییے،دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف کو خو شخبری بھی سنادی۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے سرکاری اداروں میں بھرتیوں پرپابندی کے کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کی۔چیف جسٹس نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ اہم ترین اداروں میں سربراہان کی تقرریوں کاعمل بعض اہم ترین اداروں میں سربراہان کی تقرریوں کاعمل چل رہا ہے کیا پابندی کا اطلاق ان اداروں پر بھی ہو گا۔پہلے بتائیں الیکشن کمیشن کے پاس پابندی کااختیارکہاں سے آیا۔جس پر الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے کہا کہ آرٹیکل 218 کے تحت شفاف انتخابات کی ذمےداری الیکشن کمیشن کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف،مریم نواز کے ساتھ ”ہاتھ“ہوگیا
چیف جسٹس پاکستان نے ریماکس دیے کہ کیا اس پابندی کے حکومتی امور پر اثرات تو نہیں ہوں گے۔الیکشن کمیشن کے پابندی کے فیصلے کی وضاحت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ سوموٹو لینے کا مقصد بھی آپ کو بتا دیتا ہوں،الیکشن میں تاخیرنہیں ہونی چاہیے۔آیندہ انتخابات اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات ہے نوکریاں الیکشن سے پہلے نہ دی جائیں،ایسی پابندی کی وضاحت ہونی چاہیئے۔آج سے پہلے کبھی ایسے نقطے کی وضاحت نہیں ہوئی۔ہائی کورٹس سے کہہ دیتے ہیں ایسے مقدمات کو جلد نمٹائے۔اٹارنی اور ایڈووکیٹ جرنلز کو کو نوٹس جاری کر دئیے گئے۔سرکاری بھرتیوں پر پابندی کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔
جبکہ دوسرے کیس میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے نواز شریف کی سکیورٹی بحال کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کسی کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے، چیف جسٹس نے صوبائی حکومتوں کو سیکورٹی کی فراہمی سے متعلق فارمولا ایک ہفتے میں طے کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکن بنچ نے غیر متعلقہ افراد سے سیکورٹی واپس لینے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کی،چیف جسٹس نے سوال کیا ہے کہ غیرمتعلقہ افراد سے سیکیورٹی واپس لینے کی کیاصورتحال ہے ؟کچھ لوگ اور میڈیابھی سیکورٹی واپس لئے جانے پراعتراض کررہاہے،؟؟

یہ بھی پڑھیں:ارکان کی سرزنش کافی نہیں،عمران اپنے بارے میں بھی سوچیں:نواز شریف
چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ نواز شریف سابق وزیر اعظم ہیں،انہیں سیکورٹی فراہم کی جانی چاہئے،چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹس صرف اس لیے لیا کہ ٹیکس کی رقم ضائع نہ ہو۔چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب میں غیر متعلقہ افراد کی سیکورٹی کا خرچہ ایک ارب 38 کروڑ بنتا ہے،،چاہتےہیں کہ سرکاری گاڑیوں کاغلط استعمال نہ کیا جائے۔
آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخہ نے جن افراد کے نام انہیں سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے،عدالت نے تمام صوبائی حکومتوں کو اہم شخصیات کی سیکورٹی سے متعلق فارمولا ایک ہفتے میں طے کرنے کاحکم بھی دیا،، تمام صوبے سیکورٹی کے قوائد اوراس کیلئے میکنزم تیار کریں،ایسے لوگوں کوسیکیورٹی نہ دی جائے جو اس کے اہل نہیں۔

اظہر تھراج

صحافی اور کالم نگار ہیں،مختلف اخبارات ،ٹی وی چینلز میں کام کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں