کراچی: ڈی ایس پی کے تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوانوں کے بیانات قلم بند


کراچی (24نیوز) کراچی میں ڈی ایس پی کے تشدد کا نشانہ بننے والے نوجوانوں نے بیانات قلم بند کرا دیئے۔ انکوائری افسر آزاد خان کو سات روز میں تفتیش مکمل کرنےکی ہدایت کر دی گئی،متاثرہ خاندان نے واضح کر دیا کہ وہ ظلم کے ان ضابطوں کو نہیں مانتے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے فیروزآباد تھانے میں ڈی ایس پی یعقوب جٹ کی جانب سے نوجوانوں کو تشدد کے معاملے کی انکوائری کے لیے ڈی آئی جی ساوتھ آزاد خان کی انکوائری افسر نامزدگی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد متاثرہ نوجوانوں اور ان کے والدین کو انکوائری کے لیے فیروزآباد تھانے طلب کیا گیا۔ فیروزآباد تھانے میں بیانات قلم بند کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ نوجوان قیصر کی والدہ کا کہنا تھا کہ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ نے کیا دیکھا? اگر میں وہاں ہوتی تو کبھی بچوں پر تشدد نہ ہونے دیتی، میں چاہتی ہوں کہ ڈی ایس پی کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا جائے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ نوجوا ن قیصر کا کہنا تھا کہ ہم سے بیانات تو لیے جارہے ہیں لیکن مقدمہ درج نہیں کیا جارہا۔ تشدد کا شکار نوجوان عثمان نے بھی انکوائری پر عدم اطیمنان کا اظہارکیا ہے۔

>