معاف کرنا سیکھیں، زندگی سنواریں

معاف کرنا سیکھیں، زندگی سنواریں


لاہور( 24نیوز )   معاف کرنا انبیاء کرام کی اہم صفات میں سے ایک اہم صفت ہے۔

آج ہم پاکستانی مختلف ، نسلوں، ذات پات، علاقائی تعصب  میں بٹ چکے ہیں۔ہم مختلف قسموں کے لڑائی جھگڑوں میں ایک دوسر ے کو مارنے پر آجاتے ہیں اور تو اور سگے بھائی بھی ایک دوسرے کو کاٹنے کو تیار ہوتے ہیں۔ لیکن یقین کریں ہم اپنے مسلمان بھائی کو دکھ درد پہنچا کر کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔

ہم اکثر اوقات ایک دوسرے کے منہ پر اچھے بن جاتے ہیں اور تعریفوں کے پل باندھ دیتے ہیں لیکن ان کے پیٹھ پیچھے ان کی برا ئیاں شروع کردیتے ہیں۔ایک دوسرے سے حسد نہ کریں کیوں کہ حسد دیمک کی طرح انسان کو کھا جاتا ہے۔ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ نے مسلمان بھائیوں سے زیادہ دیر تک لڑائی کرنے سے ممانعت فرمائی اور فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔۔۔ 

ہمیں پیارے نبی ﷺکے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔ ایک دوسرے کے درمیان صلح کریں اور لوگوں میں بھی کرائیں۔ آپﷺ ایک بار اپنی بیٹی فاطمہ کے گھر گئے تو حضرت فاطمہؓ اُداس تھیں تو آپ ﷺ کو معلوم ہوا کہ میاں بیوی یعنی کہ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ میں لڑائی ہوگئی ہے تو آپ باہر گئے اور حضرت علیؓ کو ساتھ لا کر ان کا ہاتھ اپنی ناف پر رکھا ، پھر اپنی بیٹی کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر رکھا، تیسرا ہاتھ اپنا رکھا اور کہا کہ دونوں بولو کہ ہم نے ایک دوسرے کو معاف کیا جس کے بعد انھوں نے یہ کلمات دہرائے اور ان میں صلح کروا دی۔

یہ ہے طریقہ صلح کرانے کا ۔۔۔۔ بچے جھگڑ کریں تو بڑوں کو چاہیے کہ صلح کرائیں اور اگر بڑے کرتے ہیں تو بچوں کو چاہیے کہ ا ن کے درمیان صلح کا ذریعہ بنیں۔کوئی معافی مانگنے آجائے تو معاف کرنے میں دیر نہ کی جائے۔ دل ہمارا گھر ہے اسے صبح شام صاف کریں۔

اپنے دیس کو لڑائیوں سے پاک کریں، سیاسی نفرتوں ، علاقائی تعصب سے باہر نکلیں، نہ کسی سے حسد کریں ، نہ بغض کریں، نہ نفرت کریں۔اور سچے مسلمان بن کر ، اچھے پاکستانی بن کر زندگی گزاریں  اور پھر دیکھیں آپ کی زندگی کیسے بدلتی ہے۔ 

وقار نیازی(Waqar Niazi)

سٹاف ممبر، یونیورسٹی آف لاہور سے جرنلزم میں گریجوایٹ، صحافی اور لکھاری ہیں۔۔۔۔