مضر صحت کھانے سے جاں بحق ہونیوالے بچوں کی اموات میں نیا موڑ

مضر صحت کھانے سے جاں بحق ہونیوالے بچوں کی اموات میں نیا موڑ


کراچی(24نیوز) کراچی میں مضرصحت کھانے سے بچوں اور پھپھو کی ہلاکت کا معاملہ کو مدنظر رکھتے ہوئےپولیس نے تحقیقات کیلئے ٹیم تشکیل دے دی ،تفتیشی حکام نے کہا کہ بچوں نے جہاں بیٹھ کر کھانا کھایا وہاں زہریلی  سپرے کے سیمپل ملے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تفتیشی حکام کاکہناتھاکہ بچوں کی ہلاکت کھٹمل مار سپرے سے ہوئی ،بچوں نے جہاں بیٹھ کر کھانا کھایا وہاں سے سپرے کے سیمپل اکٹھے کرلیے ،مضرصحت کھانا کھانے سے کبھی پسینے نہیں آتے، گزشتہ روز مضر صحت کھانا کھانے سے پانچ بچے جاں بحق ہو گئے تھے، جاں بحق بچوں میں ڈیڑھ سال کا عبدالعلی، 4 سالہ عزیز فیصل، 6 سال کی عالیہ، 7 سال کا توحید اور 9 سال کی صلوی شامل تھے، جن کی تدفین آج گیارہ بجے کردی گئی، جبکہ جاں بحق ہونے والے بچوں کی پھپھو بھی زہریلا کھانا کھانےسے دوران علاج ہسپتال میں  چل بسی، اہلخانہ کے مطابق بچوں کی پھپھی (بینا بدرالدین) کا انتقال صبح 5 بجے ہوا جبکہ میت کو صبح 7 بجے گاؤں روانہ کر دیا گیا، متاثرہ خاندان کا تعلق کوئٹہ سے ہے۔

ذرائع کاکہناتھاکہمتاثرہ خاندان جمعرات 21 فروری کی شب کراچی پہنچا، صدر کے ایک گیسٹ ہاؤس میں قیام کے دوران مقامی ریسٹورنٹ سے کھانا منگوایا جس کو کھانے کے بعد بچوں کےساتھ انکی 28 سالہ پھپھی کی حالت بھی بگڑ گئی تھی۔

دوسری جانب کراچی پولیس چیف کے احکامات پر ٹیم بنا دی گئی،جس کی سربراہی  ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل  کریں گے،ٹیم جائے واقع کا معائنہ  اورمیڈیکل رپورٹ کے روشنی میں تفتیش کرے گی، ایس ایس پی ساؤتھ پیر محمد شاہ، ایس پی اور انوسٹی گیشن ساؤتھ طارق دھاریجو بھی  شامل ہیں،تحقیقاتی ٹیم پولیس چیف کو پیش رفت سے متعلق آگاہ کرے گی۔