ننھی زینب کا قاتل درندہ گرفتار

ننھی زینب کا قاتل درندہ گرفتار


قصور (24نیوز) قصور میں ننھی زینب کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے والا درندہ پکڑا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ زینب قتل کیس میں ملوث جنسی درندے کو ڈی این اے میچ ہونے پر پکڑ لیا گیا ہے۔ ملزم زینب کادور کا رشتہ دار ہے اور نادرا ریکارڈ کے مطابق اس کی عمر چوبیس سال ہے۔ ملزم پر پہلے بھی بچوں سے جنسی زیادتی کے کچھ الزامات لگے تھے تاہم ملزم کے شیو کرانے کی وجہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے اسے پکڑا نہیں جاسکا۔ واضح رہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے شخص کی داڑھی نظر آرہی تھی لیکن ملزم نے بعد میں شیو کرالی تھی جس کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اسے گرفتار کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔

ویڈیو دیکھیں

ملزم عمران قصور کے محلہ کوٹ روڈ کا رہائشی ہے ، یہ وہی محلہ ہے جہاں زینب کا بھی گھر واقع ہے۔ رشتہ دار ہونے کی وجہ سے ملزم اور زینب کے اہل خانہ کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا جس کی وجہ سے زینب اس کو جانتی تھی اور اسی لیے وہ اغوا کی رات اس کے ساتھ اطمینان سے چلی گئی تھی۔

  مزیذ پڑھیں۔۔۔زینب کیس: مبینہ ملزم گرفتار، زیادتی و قتل کا اعتراف
واضح رہے رواں ماہ پانچ تاریخ کو زینب کو گھر سے اغوا کیا گیا،زیادتی کے بعد قتل کیا گیا جس کی نعش اعظم روڈ قصور سے کچرے کے ڈھیر میں پڑی ملی تھی۔
یاد رہے درندگی کے اس بھیانک واقعے پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا،قصور شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور پولیس کی فائرنگ سے دو مظاہرین بھی جاں بحق ہوگئے تھے۔

 مزیذ پڑھیں۔۔۔قصور کی زینب کا قاتل پکڑا گیا۔۔عمران قاتل ہی نہیں سفاک درندہ نکلا

7 سالہ زینب کے قاتل کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، پولیس کے مطابق ملزم عمران کو پہلے بھی حراست میں لیا گیا تھا تاہم ملزم کے انکار اور ڈی این اے نہ ہونے کے باعث چھوڑ دیا گیا -

  زینب کے گھروالوں ،رشتہ داروں اور اہل علاقہ کا کہناتھا کہ عمران ایسا نہیں کر سکتا وہ اکثر بچوں کو چیزیں دلانے کیلئے بازار لے جاتا ہے لیکن کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جس پر پولیس نے ملزم کو چھوڑ دیا تھا،تاہم ڈی این اے میچ کرجانے پر پولیس نے عمران کو حراست میں لے لیا اور ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔

فائل فوٹو

قاتل کی گرفتاری پر زینب کے والد امین انصاری نے کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے عمران کی گرفتاری کی اطلاع نہیں دی گئی، عمران علاقے کا ہی رہائشی لگ رہا ہے،ملزم کی تصدیق کے بعد ہی کچھ موقف دے سکیں گے ۔

 مزیذ پڑھیں۔۔۔ زینب کے اغوا کار کی تصاویر 24نیوز نے حاصل کر لیں
ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے مضبوط شواہد ہیں کہ عمران ہی مرکزی ملزم ہے لیکن ابھی اس کی فرانزک رپورٹ آنا باقی ہے جس کے بعد ہی حتمی طور پر بتایا جاسکے گا کہ اصل ملزم کون ہے، ملزم بار بار حلیہ بدلتا رہتا تھا جس کی وجہ سے اس کی گرفتاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ویڈیو دیکھیں


انہوں نے کہا کہ ملزم عمران بار بار حلیہ بدلتا رہتا تھا اور یہ روڈ کوٹ کا ہی رہائشی ہے جو بار بار اپنا حلیہ بدلتا رہتا تھا جس کی وجہ سے اس کی گرفتاری میں مشکلات پیش آرہی تھیں ۔ ملزم عمران کو پاکپتن کے قریب سے گرفتار کیا گیا ہے تاہم مرکزی ملزم کا حتمی اعلان فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

مزیذ پڑھیں۔۔۔ قصور:7سالہ زینب کے قتل کے خلاف ہڑتال،وزیر اعلیٰ کا نوٹس، رپورٹ طلب

اس حوالے سے اداکار احسن خان نے کہا ہے کہ ایسے شخص کی سزا موت سے کم نہیں ہونی چاہیے،اس نے صرف ایک یا دس بچیوں کو نہیں پوری قوم کی بچیوں کو درندگی کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے،جب ویڈیو جاری ہوئی تو محلے اور علاقے والوں کو اس کی نشاندہی کرنی چاہیے تھی ،اگر یہ کالا علم جانتا تھا تو مشہور ہوگا،یہ جہالت ہے ،جادو گر گندے لوگ ہوتے ہیں مختلف چیزوں کو استعمال کرتے ہیں اس کو ایسی عبرت ناک سزا دی جائے کہ یہ ایک نشان عبرت بن جائے۔

ویڈیو دیکھیں

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اداکارہ نادیہ جمیل نے کہا ہے کہ قصور میں کئی واقعات ہوچکے ہیں لیکن پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ملزم پکڑا گیا ہے،ملزم کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے،آٹھ سے زائد بچیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یہ معاملہ سادہ نہیں جتنا سمجھا جارہا ہے،اسے جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے،والدین کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اپنے بچوں کا خیال رکھیں۔
ویڈیو دیکھیں

مرکزی ملزم عمران کے گھر پر تالے پڑے ہوئے ہیں جبکہ پولیس نے ملزم کے اہل خانہ کو نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے، ملزم کے گھر کے باہر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ ملزم عمران کے گھر کے باہر ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ زینب کے قاتل کے حوالے سے کچھ نہیں جانتے ، انہیں حکم دیا گیا تھا کہ اس گھر کے پاس پہنچنا ہے اور وہ اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گئے ہیں۔

جبکہ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے زینب کے قاتل کی گرفتاری کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں قتل کی سزا بالکل پھانسی ہے ،قانون میں جوسزا درج ہے ،ملزم کو ملنی چاہئے ، تھوڑا سا انتظار کر لیں جیسے ہی باقاعدہ رپورٹ ملے گی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائے،فرانزک لیبارٹری کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، عام خبر نہیں کہ اندازے کے مطابق بات کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ملزم کے اہلخانہ کو حراست میں لینے کی اطلاع نہیں۔